جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بالغ افراد میں9گھنٹے سے زائد کی نیند موت کے خطرات30 فیصد بڑھا دیتی ہے

datetime 29  مارچ‬‮  2015 |

لاہور (نیوز ڈیسک) ہفتے کے اختتام پر سات دنوں کی تھکن اتارنا اور ادھوری نیند کو پورا کرنا تقریباً ہر نوکری پیشہ مرد و خواتین کی دلی خواہش ہوتی ہے، لیکن حال ہی میں ہونے والی اس تحقیق کو پڑھنے کے بعد امید ہے کہ ایسے افراد کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی کیونکہ ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ لوگ جو9گھنٹے سے زیادہ دیر سوتے ہیں، ان کے موت سے ہمکنار ہونے کا تیس فیصد تک خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں ماہرین نے ”میڈیم سلیپرز“ کی حوصلہ افزائی کی ہے اور کہا ہے کہ اچھی صحت اور طویل العمری کیلئے میڈیم سلیپرز کی نیند ہی سب سے مناسب ہے۔ واضح رہے کہ میڈیم سلیپرز ان افراد کو کہتے ہیں جو کہ سات اور آٹھ گھنٹے کے بیچ نیند لیتے ہیں۔ نیند کا موت سے تعلق دریافت کرنا ایسا معاملہ تھا جس کے ماہرین خود سے کوئی بھی ٹائم فریم نہیں دے سکتے تھے بلکہ اس کیلئے وہ قدرت کے محتاج تھے۔ اسی لئے اس حوالے سے تحقیق تقریباًایک دہائی تک جاری رہی جس دوران ماہرین تحقیق میں شامل کئے گئے افراد کی نیند اور جاگنے کے معمولات کے حوالے سے اعداد وشمار اکھٹا کرتے رہے۔ یہ تحقیق صرف زیادہ سونے والوں کیخلاف ہی خطرے کی گھنٹی نہیں بجاتی بلکہ ”شارٹ سلیپرز“ کیلئے بھی خطرات کا اظہار کرتی ہے۔ ماہرین نے اعداد وشمار کے ساتھ ثابت تو نہ کیا تاہم ان کا مشاہدہ یہ بتلاتا ہے کہ شارٹ سلیپرز یعنی کہ وہ افراد جو چھ گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان کے جلد موت کا شکار ہونے کا خطرہ بھی سات گھنٹے سونے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔یہ تحقیق نظر انداز کئے جانے کے قابل ہرگز نہیں کیونکہ واروک یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کیلئے تقریباً دس لاکھ افراد سے اعداد و شمار اکھٹا کئے گئے تھے۔ اس تحقیق کیلئے چنے گئے افراد کو تین مختلف درجوں میں جگہ دی گئی تھی اور پھر ان کے اعداد و شمار کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ زیادہ سونے والے ، اوسط دورانئے کے لئے سونے والوں کی نسبت تیس فیصد زیادہ موت کا شکار ہوئے۔ اسی طرح کم سونے والے بھی اوسط نیند سونے والوں سے 12 فیصد زیادہ موت کا شکار ہوئے۔نیند کی زیادتی سے جلد موت کے شکار ہونے کی وجہ دراصل وہ بیماریاں ہیں جو کہ اس عادت کا شکار لوگوں کو لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ یہ بیماریاں بھی تقریباً وہی ہیں جو کہ کم نیند کا شکار افراد کو ہوسکتی ہیں۔ ان بیماریوں میں انہوں نے ڈپریشن، امراض قلب، ذیابیطس وغیرہ اہم ہیں۔ واضح رہے کہ نیند کی مقدار میں اضافے سے موت کے خطرات بڑھنے کی شرح اسی قدر ہے جس قدر کے شراب نوشی کا شکار افراد میں ہوتی ہے یعنی کہ شراب نوشی کا شکار افراد بھی دیگر افرادسے تیس فیصد زیادہ موت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس لئے نیند کی زیادتی یا کمی کو بھی اسی قدر خطرناک تصور کرنا چاہئے جس قدر کہ شراب نوشی کو انسانی صحت کیلئے سمجھا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…