جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

‘بچی کو ڈاکٹر نے نہیں میں نے بچایا’، پمز واقعے میں بچ جانیوالی واحد نومولود کی خالہ نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

datetime 26  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران زندہ بچ جانے والی واحد نومولود بچی کی خالہ نے اسپتال انتظامیہ کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے سے متعلق اپنا بیان سامنے رکھ دیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق بچی کی خالہ نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ نومولود کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی مدد سے باہر نکالا۔ خاتون کے مطابق آگ بھڑکنے کے وقت وہ اسپتال میں موجود تھیں۔انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے فوراً بعد وہ وارڈ کی طرف گئیں تو ایک لیڈی ڈاکٹر کو وہاں سے باہر آتے دیکھا۔ خاتون کے بقول ڈاکٹر نے انہیں کسی مرد کو بلانے کا کہا، جس پر انہوں نے مدد کے لیے آواز دی۔ بعد ازاں آگ لگنے کا علم ہونے پر وہ فوراً نرسری کے اندر چلی گئیں۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عملے کو بتایا کہ ان کی بہن کی نومولود بچی اندر موجود ہے اور وہ اس کی خالہ ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود اندر داخل ہوئیں اور بچی کو اٹھا کر باہر لے آئیں، اس دوران ان کے بال اور کندھا بھی معمولی طور پر آگ کی لپیٹ میں آیا۔بچی کی خالہ کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں نرسری میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود دکھائی نہیں دی۔ ان کے مطابق ایک مرد ڈاکٹر بھی وہاں سے نکل گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی بہن اور نومولود بچی کو سنبھالا اور وہاں سے باہر نکل آئیں۔خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان سے مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔

کبھی انہیں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غلط بچی اٹھائی ہے، جبکہ بعض اوقات یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ بچی کو نرس نے باہر نکالا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت وہ اندر گئیں، انہیں وہاں کوئی نرس موجود نظر نہیں آئی۔دوسری جانب پمز انتظامیہ کی جانب سے پہلے بتایا گیا تھا کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 نومولود موجود تھے اور ایک لیڈی ڈاکٹر ایک بچی کو بچانے میں کامیاب ہوئی، جبکہ دیگر 15 بچے جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں آتشزدگی صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئرکنڈیشننگ کمپریسر پھٹنے کو قرار دیا گیا تھا، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…