لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلے میں ملزم نعمان قیصر کی ہلاکت کے بعد اس کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد جواد ظفر ظفر نے سائلہ آصفہ شاہین کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار خاتون آصفہ شاہین نے اپنے شوہر نعمان قیصر کی بازیابی کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران ایس پی سی سی ڈی ناصر عباس سمیت سی سی ڈی کے دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رانا عمیر ابرار پیش ہوئے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔رپورٹ کے مطابق نعمان قیصر کو سی سی ڈی نے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے 13فروری کو جیل بھجوا دیا تھا تاہم بعد ازاں اطلاعات ملی ہیں کہ وہ سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔ جسٹس محمد جواد ظفر نے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کہ درخواست تو گزشتہ روز بازیابی کے لیے دائر کی گئی تھی اور ملزم کے خلاف کون کون سے مقدمات درج تھے۔ اس پر لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ نعمان قیصر کے خلاف قتل کے دو اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ درج تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نعمان قیصر ایک مقدمے میں جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تھا اور سی سی ڈی نے بھی کہا تھا کہ انہیں یہ شخص مطلوب نہیں۔ وکیل کے مطابق اس کے اگلے ہی روز اسے جیل سے باہر اغواء کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور شہری کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ اگر وہ مزید کارروائی چاہتی ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔


















































