جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

ایران سے جنگ کیلئے امریکی فوجیوں کو مذہبی حوالے دینے کا انکشاف

datetime 5  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی فوج کے مختلف یونٹس سے موصول ہونے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ

ایران کے خلاف جاری جنگ کو بعض فوجی کمانڈرز مذہبی زاویے سے پیش کر رہے ہیں اور اسے خدائی منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک نان کمیشنڈ افسر کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ بریفنگ کے دوران ایک کمانڈر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ آخری زمانے کی پیش گوئیوں یعنی آرماگیڈن سے متعلق ہے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔صحافی جوناتھن لارسن کی رپورٹ کے مطابق یہ شکایات ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کو موصول ہوئیں، جو امریکی فوج میں مذہبی جانبداری کے خلاف سرگرم ایک تنظیم ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح سے پیر کی رات تک 110 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں، جو فوج کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں نے جمع کرائیں۔ یہ شکایات کم از کم 30 فوجی تنصیبات اور 40 سے زائد یونٹس سے متعلق ہیں۔ شکایت کنندگان کی شناخت خفیہ رکھی جا رہی ہے تاکہ انہیں محکمہ دفاع کی طرف سے کسی ممکنہ کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس معاملے پر پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک شکایت گزار، جو ایران کے جنگی علاقے سے باہر مگر فوری تعیناتی کی حالت میں موجود یونٹ کا حصہ ہے، نے بتایا کہ وہ خود عیسائی ہے اور اس نے 15 فوجیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے شکایت درج کروائی۔ ان میں زیادہ تر مسیحی تھے جبکہ ایک مسلمان اور ایک یہودی اہلکار بھی شامل تھا۔ اس کے مطابق کمانڈر نے ہدایت دی کہ ماتحت اہلکاروں کو بتایا جائے کہ یہ جنگ خدائی منصوبے کا حصہ ہے۔ بریفنگ کے دوران بائبل کی کتاب مکاشفہ کا حوالہ دیتے ہوئے قیامت اور حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کا ذکر بھی کیا گیا۔ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کے سربراہ مائیکی وائن اسٹین، جو امریکی فضائیہ کے سابق افسر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ امریکی آئین اور فوجی قوانین کے تحت سرکاری بریفنگز یا فوجی احکامات میں ذاتی مذہبی نظریات شامل کرنا ممنوع ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی افسر اپنے ماتحت اہلکاروں پر مذہبی عقائد مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ماہانہ دعائیہ اجتماعات شروع کیے ہیں اور وہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ہفتہ وار بائبل اسٹڈی سیشنز میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ ان نشستوں کی قیادت پادری رالف ڈرولنگر کرتے ہیں، جو اسرائیل کی حمایت کو مذہبی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے گزشتہ سال ایران پر حملے کے بعد اسرائیل کی حمایت میں خصوصی مذہبی لیکچرز بھی منعقد کیے گئے، جن کی تفصیلات کابینہ اور کانگریس کے ارکان تک بھی پہنچائی گئیں۔امریکی فوج میں عیسائی قوم پرستی کے رجحانات کے حوالے سے ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سابق صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف مہم کو “صلیبی جنگ” قرار دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی اور بعد ازاں اس اصطلاح کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ اسی طرح 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد بھی بعض شکایات سامنے آئی تھیں کہ چند فوجی افسران نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔مائیکی وائن اسٹین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے بعد انہیں بڑی تعداد میں ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ فوجی افسران جنگ کو بائبلی حوالوں سے جائز قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض کمانڈرز اس تنازع کو عیسائی انتہاپسند نظریات کے مطابق آخری زمانے کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…