اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چین نے ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون سار سے ٹیلیفون پر گفتگو میں واضح کیا کہ بیجنگ ایران پر کسی بھی قسم کی فوجی یلغار کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کا قتل “سنگین خلاف ورزی” ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔۔وانگ یی کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی مشاورت میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی، لیکن عسکری اقدامات نے اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال تنازع کو مزید پیچیدہ بنائے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
چین نے زور دیا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔دوسری جانب روس نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے عالمی طاقتوں سے استفسار کیا کہ وہ شواہد کہاں ہیں جن کی بنیاد پر ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات لگا کر حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر مسلط جنگ کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں نہ صرف معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ انسانی جانوں کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔



















































