اسلام آباد (نیوز ڈیسک) محکمہ داخلہ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی
ایک رپورٹ میں بسنت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پہلے جاری کردہ اعداد و شمار سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اموات میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہونے والے واقعات شامل نہیں ہیں۔ یہ معاملہ جسٹس ملک اویس خالد کے روبرو زیرِ سماعت آیا، جہاں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی گئی۔ دورانِ سماعت ہوم ڈیپارٹمنٹ نے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق بسنت کے موقع پر مجموعی طور پر 17 افراد جان سے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاکتوں کی بڑی وجہ چھتوں اور درختوں سے گرنے کے واقعات تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 12 افراد چھت سے گر کر جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد درخت سے گرنے کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مزید برآں 3 افراد کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔ عدالت نے بسنت کے انعقاد پر آنے والے سرکاری اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔



















































