اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث رہنے والی ایک مشہور شادی صرف دو ماہ میں ہی ٹوٹ گئی، جس کے بعد اس معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا شخصیت اور ماہرِ نفسیات نبیہہ علی خان نے نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے پروگرام نورِ رمضان میں پہلی بار اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل بیان کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا انفلوئنسر حارث کھوکھر سے شادی ان کی زندگی کا غلط فیصلہ ثابت ہوئی کیونکہ رشتہ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں ذہنی دباؤ، پابندیوں اور تضحیک آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ان کے شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے محبت کے بجائے شہرت حاصل کرنے کے مقصد سے شادی کی۔نبیہہ کے بقول شادی کے بعد ان کی روزمرہ زندگی مشکلات سے بھر گئی، حتیٰ کہ انہیں ذاتی معاملات میں بھی آزادی نہیں دی جاتی تھی اور ہر بات پر شک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سسرال کے رویے، خاص طور پر ساس کے طرزِ عمل، نے حالات مزید خراب کیے جبکہ شوہر ہمیشہ اپنی والدہ کا ساتھ دیتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ گھر بچانے کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی مگر اس کے باوجود انہیں عزت نہ ملی بلکہ آخرکار گھر سے نکال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث وہ شدید پریشانی، بے سکونی اور صحت کے مسائل کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شوہر کا رویہ توہین آمیز اور الزام تراشی پر مبنی تھا جس نے رشتے کو ناقابلِ برداشت بنا دیا۔
پروگرام کے دوران میزبان فضا علی بھی گفتگو سنتے ہوئے جذباتی ہو گئیں اور انہوں نے نبیہہ کو تسلی دی۔ اسی موقع پر ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو مشکل وقت میں معاشرتی حمایت ملنی چاہیے۔
نبیہہ علی خان نے اعلان کیا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی اور سچ سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ دیگر خواتین ایسے حالات سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گیا ہے جہاں صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔



















































