کراچی(این این آئی)پاکستان میں شہریوں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی اور واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ دستاویزات نے ملک میں سائبر سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کا پردہ چاک کر دیا ہے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران این سی سی آئی اے کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 57 ہزار 465 شکایات موصول ہوئیں۔ان میں سے صرف واٹس ایپ ہیکنگ اور اس کے غلط استعمال کی 2,974 شکایات درج کی گئیں۔ ان شکایات میں سے صرف 1,032 کیسز پر انکوائری کا آغاز کیا جا سکا، جبکہ اتنے بڑے پیمانے پر جاری اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں اب تک صرف ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا غلط استعمال کرنے اور اسے پبلک کرنے میں 35 ویب سائٹس براہ راست ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، این سی سی آئی اے نے ایسے 52 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی نشاندہی کی ہے جو اس غیر قانونی دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
جعل سازوں نے شہریوں کو لوٹنے اور ان کا ڈیٹا چرانے کے لیے جدید اور پیچیدہ طریقے اپنا لیے ہے، شہریوں کو جعلی کالز یا میسجز کے ذریعے واٹس ایپ شیئرنگ کوڈ بھیج کر ان کا اکانٹ ہتھیا لیا جاتا ہے۔صارف کی مرضی کے بغیر اس کے نام پر ڈپلیکیٹ موبائل سم نکال کر واٹس ایپ ہیک کرنے کا طریقہ بھی عام ہو چکا ہے، نوکری یا بھاری انعام کا لالچ دے کر سادہ لوح شہریوں کے فون میں ایسا سافٹ ویئر انسٹال کرایا جاتا ہے جس سے پورے فون کا کنٹرول ہیکر کے پاس چلا جاتا ہے۔جعل ساز واٹس ایپ ہیک کرنے کے بعد نہ صرف صارف سے رقم کا تقاضا کرتے ہیں بلکہ ان کے نام پر دیگر لوگوں سے بھی مالی فراڈ کرتے ہیں۔ حساس ڈیٹا کی چوری کے علاوہ یہ گروہ شہریوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور بلیک میلنگ کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔



















































