اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ ایک پاکستانی شہری نے کیا، جو کچھ عرصہ قبل افغانستان گیا تھا۔
ان کے مطابق حملہ آور گزشتہ روز یا آج نوشہرہ سے وفاقی دارالحکومت پہنچا، جبکہ سیکیورٹی ادارے اس کے اہلِ خانہ تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس حملے کا مقصد ملک کے امن اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے ایک ایسا وقت منتخب کیا گیا جب پاکستان نے دو ممالک کے ساتھ اہم معاہدے طے کیے، جو اس سازش کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے اور اب بھارت افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔خواجہ آصف کے مطابق اس خودکش حملے میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تقریباً 150 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے بھارت کو شکست دی، اسی طرح اس کے پراکسی نیٹ ورکس کو بھی ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان رابطہ موجود ہے، اور بظاہر اب خیبرپختونخوا حکومت بھی اس جنگ کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔



















































