بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افرادکی تعداد 63 ہوگئی

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والیگل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افرادکی تعداد 63 ہوگئی ہے۔ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ڈی آئی جی سائوتھ کے مطابق ملبہ ہٹانیکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانے کے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔کراکری دکان کے مالک سلمان نے کہاکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ہمارے پاس اب تک دو دکانوں سے 21باقیات لائی گئی ہیں، ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں، آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔ڈاکٹرسمعیہ کے مطابق ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔خیال رہے کہ حادثے میں تین مزید لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جب کہ 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ گل پلازہ واقعے میں اب تک تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہیں، ڈمپر غائب ہونے کی اطلاع غلط ہے۔کمشنرکراچی نے کہاکہ رمپا پلازہ کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن عمارت خطرناک نہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کرکے رمپا پلازہ کیخطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔گل پلازہ سانحے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کمشنر کراچی کو سات فائلیں جمع کروائی ہیں۔ سات فائلوں میں سے تین گل پلازہ کے زیر التوا کورٹ کیسز اور خلاف ضابطہ تعمیرات کی دستاویزات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…