بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

معروف سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ جذباتی ویڈیو بیان وائرل

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والی معروف اور سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کے بعد پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے کئی تلخ تجربات اور حقائق بیان کیے ہیں۔عشرت فاطمہ نے اس مرحلے کو اپنی زندگی کا انتہائی مشکل اور دل دکھانے والا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کو وہ برسوں تک اپنا پیشہ ورانہ گھر اور اپنی پہلی محبت سمجھتی رہیں، وقت کے ساتھ وہی جگہ ان کے لیے اجنبی اور بے حسی کی علامت بن گئی۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک طویل ویڈیو میں انہوں نے جذبات سے بھرپور انداز میں بتایا کہ جب کوئی شخص پوری ایمانداری، لگن اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، لیکن اس کے باوجود اسے بار بار نظر انداز کیا جائے، اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، تو ایسے حالات میں فیصلہ کرنا انسان کے لیے بے حد تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کام کے میدان میں کسی سے مقابلہ ممکن نہ رہے تو منفی حربے اختیار کیے جاتے ہیں، اور انسان سے اس کی شناخت، سکون اور وہ جگہ چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔

عشرت فاطمہ نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک اس امید پر حالات برداشت کرتی رہیں کہ معاملات بہتر ہو جائیں گے، انہیں میرٹ پر کام کرنے کا موقع ملے گا اور بطور ایک سینئر اور ’’لیجنڈ‘‘ براڈکاسٹر انہیں وہ عزت اور مقام دیا جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں، مگر یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ ان کے مطابق انہیں بالواسطہ طور پر بارہا یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ اب ادارے کو ان کی خدمات درکار نہیں، جس کے بعد انہوں نے انتہائی بوجھل دل کے ساتھ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ استعفے کے بعد پیش آنے والے حالات اور واقعات نے ان کے فیصلے کو مزید درست ثابت کر دیا۔ گفتگو کے دوران وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی آواز، سانس، تلفظ اور پیشہ ورانہ صلاحیت بالکل درست ہے، وہ وقت کی پابند ہیں اور اپنے کام سے بے پناہ محبت رکھتی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود وہ آج گھر بیٹھی ہیں اور کسی بھی ادارے میں پیشہ ورانہ طور پر متحرک نہیں ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…