بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

معروف سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ جذباتی ویڈیو بیان وائرل

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والی معروف اور سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کے بعد پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے کئی تلخ تجربات اور حقائق بیان کیے ہیں۔عشرت فاطمہ نے اس مرحلے کو اپنی زندگی کا انتہائی مشکل اور دل دکھانے والا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کو وہ برسوں تک اپنا پیشہ ورانہ گھر اور اپنی پہلی محبت سمجھتی رہیں، وقت کے ساتھ وہی جگہ ان کے لیے اجنبی اور بے حسی کی علامت بن گئی۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک طویل ویڈیو میں انہوں نے جذبات سے بھرپور انداز میں بتایا کہ جب کوئی شخص پوری ایمانداری، لگن اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، لیکن اس کے باوجود اسے بار بار نظر انداز کیا جائے، اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، تو ایسے حالات میں فیصلہ کرنا انسان کے لیے بے حد تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کام کے میدان میں کسی سے مقابلہ ممکن نہ رہے تو منفی حربے اختیار کیے جاتے ہیں، اور انسان سے اس کی شناخت، سکون اور وہ جگہ چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔

عشرت فاطمہ نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک اس امید پر حالات برداشت کرتی رہیں کہ معاملات بہتر ہو جائیں گے، انہیں میرٹ پر کام کرنے کا موقع ملے گا اور بطور ایک سینئر اور ’’لیجنڈ‘‘ براڈکاسٹر انہیں وہ عزت اور مقام دیا جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں، مگر یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ ان کے مطابق انہیں بالواسطہ طور پر بارہا یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ اب ادارے کو ان کی خدمات درکار نہیں، جس کے بعد انہوں نے انتہائی بوجھل دل کے ساتھ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ استعفے کے بعد پیش آنے والے حالات اور واقعات نے ان کے فیصلے کو مزید درست ثابت کر دیا۔ گفتگو کے دوران وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی آواز، سانس، تلفظ اور پیشہ ورانہ صلاحیت بالکل درست ہے، وہ وقت کی پابند ہیں اور اپنے کام سے بے پناہ محبت رکھتی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود وہ آج گھر بیٹھی ہیں اور کسی بھی ادارے میں پیشہ ورانہ طور پر متحرک نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…