لاہور (این این آئی) پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ حکومت کی جانب سے 18سال سے کم عمر بچوں کے والدین کو ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا تاکہ بچوں کو مزدوری سے نکال کر تعلیم و تربیت کی طرف لایا جا سکے۔حکومتی فیصلے کے تحت بچوں کو مزدوری سے نکالنے پر والدین کو مشروط مالی معاونت دی جائے گی جبکہ مالی معاونت کے بعد بچوں کیلئے تعلیمی اور فنی تربیتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کیلئے ٹاسک کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو جامع پلان تیار کریں گی۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے موجودہ قوانین میں ترامیم کیلئے سفارشات بھی طلب کر لی ہیں جبکہ کمیٹیوں کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے 20سے زائد ٹاسک سونپے گئے ہیں۔حکومت کی جانب سے بچوں کی ڈیجیٹل میپنگ اور جیو ٹیگنگ کی جائے گی جبکہ ہیلپ لائن اور بحالی مراکز بھی قائم کئے جائیں گے۔ سوشیو اکنامک سروے کے تحت مستحق والدین کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔حکومتی اقدامات سے ہزاروں بچوں کو مزدوری سے نجات دلانے اور ان کا مستقبل محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔















































