بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے مالی بحران پر وفاقی حکومت کو خط ارسال کر دیا

datetime 10  جنوری‬‮  2026 |

پشاور (این این آئی)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے مالی بحران پر وفاقی حکومت کو خط ارسال کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق خط کے متن میں کہا گیا کہ وفاقی ریلیزز میں کمی سے خیبرپختونخوا کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ مالی سال 2025ـ26 کے لیے 157 ارب روپے سرپلس ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے۔مزید برآں وفاقی حکومت نے مالی سال 2025/26 کے پہلے چھ ماہ میں کم فنڈز جاری کیے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بروقت فنڈز کی عدم فراہمی سے صوبائی مالی نظم متاثر ہوا۔ ضم اضلاع کے لیے 292 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ 6 ماہ میں صرف 56 ارب جاری کیے گئے۔

ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبے شدید فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ وفاق نے 127 ارب روپے کم جاری کئے۔ وفاق نے 115 ارب کے مقابلے میں اسٹریٹ ٹرانسفرز کی مد میں صرف 19 ارب جاری کیے۔ این ایف سی شیئر میں 76 ارب روپے کی کمی ہے۔ نیٹ ہائیڈل منافع کی مد میں 106 ارب کے مقابلے میں صرف 18 ارب جاری ہوئے۔متن میں مزید درج تھا کہ سیلاب اور بحالی پر 28 ارب روپے خرچ ہوئے جسکی وجہ سے صوبائی وسائل پر مزید بوجھ ہے۔ آئی ڈی پیز پر اضافی 7 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ مالی بحران میں اضافہ ہوا۔وفاقی ریلیزز میں مسلسل کمی سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود 46 ارب روپے خود جاری کیے۔ کے پی حکومت نے خط میں وفاق سے بروقت اور مکمل فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…