اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع اجلاس میں شہریوں کو چارٹر ہیلی کاپٹر سروس کی سہولت دینے کی خوشخبری سنا دی گئی۔منگل کو سینیٹر طلحہ محمود کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں سیکریٹری دفاع نے کمیٹی کو اہم امور پر بریفنگ دی۔اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، پاک افغان سرحدی صورتحال اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق معاملات پر تفصیلی ان کیمرا بریفنگ دی گئی۔سیکریٹری دفاع کے مطابق ایئرکرافٹس اور دستیاب وسائل کی کمی پی آئی اے کی بڑی مشکل ہے۔ چترال کے لیے فلائٹ آپریشن خسارے کے باعث معطل کیا گیا تھا۔
البتہ نجکاری کے بعد چترال فلائٹس کی بحالی کا امکان بڑھ جائے گا، سیاحت کے فروغ سے پروازوں میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے شہریوں کے لیے چارٹر ہیلی کاپٹر سروس فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے،جبکہ حکومتِ گلگت بلتستان کے اشتراک سے ہیلی پورٹس کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 15ماہ کے دوران پی آئی اے میں 125ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ راک نامی کمپنی نے تقریبا چارسو پاکستانیوں کو ایک سال سے تنخواہوں کے بغیر یرغمال بنا رکھا ہے اور ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لئے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری دفاع کومعاملے کی مکمل نوعیت معلوم کر کے کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔














































