منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 221 اموات، 800 سے زائد مکانات تباہ

datetime 22  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور ان سے جڑے مختلف حادثات نے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات اور قدرتی آفات کے نتیجے میں اب تک 221 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 804 گھروں کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ: پنجاب
پنجاب میں تباہی کا دائرہ سب سے وسیع رہا، جہاں بارشوں سے مختلف سانحات میں 135 افراد جاں بحق اور 470 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہاں 24 مکانات مکمل طور پر منہدم جبکہ 168 کو جزوی نقصان پہنچا۔

خیبرپختونخوا میں بھی شدید نقصان
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 40 جانیں ضائع ہوئیں اور 69 افراد زخمی ہوئے۔ صوبے میں 78 گھر مکمل طور پر جبکہ 142 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔

سندھ میں 22 اموات
سندھ میں طوفانی بارشوں نے 22 افراد کی جان لے لی اور 40 افراد کو زخمی کیا۔ صوبے میں 33 مکانات مکمل اور 54 جزوی طور پر منہدم ہوئے۔

بلوچستان بھی بارشوں کی لپیٹ میں
بلوچستان میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے۔ وہاں 8 گھر مکمل اور 56 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

گلگت بلتستان: املاک کو بڑا نقصان
گلگت بلتستان میں اگرچہ کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، لیکن 3 افراد زخمی ہوئے، اور مجموعی طور پر 137 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 66 مکمل اور 71 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔

آزاد کشمیر و اسلام آباد
آزاد کشمیر میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا اور 6 افراد زخمی ہوئے، جب کہ 17 مکانات مکمل طور پر اور 75 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
اسلام آباد میں بھی ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی، ساتھ ہی 1 گھر مکمل اور 35 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔

تازہ صورتحال
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد کی اموات ہوئیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ مزید 25 مکانات زمین بوس ہو گئے اور 5 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک 200 مویشی بارشوں کی شدت کی نذر ہو چکے ہیں۔

این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام سے رابطہ رکھیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…