منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بابو سرٹاپ کے بعد دیوسائی میں بھی خطرے کی گھنٹی بج اٹھی ،پاک فوج کے دستے پہنچ گئے

datetime 22  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سکردو سے دیوسائی جانے والی سڑک پر اچانک موسلا دھار بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث کئی گاڑیاں سیلابی پانی کی زد میں آ گئیں، جب کہ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ کئی حصوں میں مکمل بند ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق 40 سے 50 گاڑیوں میں سوار مسافر اور سیاح پھنس کر رہ گئے تھے۔صورتحال کے فوری بعد پاک فوج نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باوجود فوجی اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں میں بروقت پہنچ کر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا اور سڑک کی صفائی و بحالی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔

ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر بھاری مشینری کی مدد سے بند سڑکوں کو کھولنا شروع کیا۔ ساتھ ہی میڈیکل ٹیمیں، خوراک، پینے کا صاف پانی اور خیمے متاثرہ افراد تک فوری پہنچا دیے گئے تاکہ انہیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پاک فوج کے اہلکاروں نے دیوسائی کے علاقے میں مسلسل کام کرتے ہوئے رات بھر کی کوششوں سے سکردو سے سدپارہ ماؤنٹینیئرنگ اسکول اور دیوسائی سے سدپارہ گاؤں تک کے تمام راستے بحال کر دیے۔ پھنسے ہوئے تمام افراد اور ان کی گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔اس وقت علاقے میں ٹریفک معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہے جبکہ فوجی اہلکار ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب بھی علاقے میں موجود ہیں۔مقامی باشندوں اور متاثرہ سیاحوں نے پاک فوج کی فوری امدادی کارروائیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے جذبے کو سراہا کہ وہ ہر آزمائش کی گھڑی میں عوام کی خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…