منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ دریائے سوات،14 افسران کے خلاف کارروائی کی منظوری، نام سامنے آگئے

datetime 12  جولائی  2025 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سانحہ دریائے سوات کی انکوائری رپورٹ میں غفلت کے مرتکب قرار دیے گئے افسران کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ہے، جس پر جلد عمل درآمد کا امکان ہے اور مذکورہ افسران کے نام بھی سامنے آگئے ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ افسروں کے خلاف تادیبی کاروائی 60 دنوں کے اندر تمام ضابطے پورے کرتے ہوئے عمل میں لائی جائے گی، وزیراعلیٰ کو پیش کردہ 63 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق جن افسروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ان میں سابق ڈپٹی کمشنر شہزاد محبوب بھی شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریلیف اور ہیومن ریسورس احسان الحق، پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید اقبال خٹک، محکمہ آب پاشی کے افسران سید سلیمان، انعام اللہ، فیض علی خان او ٹی ایم او بابوزئی نثارعلی کے خلاف بھی کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ریسکیو 1122 شاہ فہد، محمدسعدخان ضلعی ایمرجنسی افسر، عنایت اللہ خان کنٹرول روم انچارج کے خلاف بھی کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ افسروں کے علاوہ غوطہ خوروں اور ڈرائیوروں کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اور وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی ہے، جس پر عمل درآمد تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد کیا جائے گا۔یاد رہے کہ صوبائی انسپکشن ٹیم نے سانحہ سوات پر انکوائری رپورٹ تیار کر کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کو پیش کر دی ہے، جس میں نظام کی خامیوں، غفلت کے مرتکب سرکاری عہدیداروں کی نشان دہی کی گئی ہے۔سانحہ سوات کی 63 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے نظام میں موجود خامیوں کی نشان دہی اور ان خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…