منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی ،250بوسیدہ عمارتیں خطرناک قرار، میٹرو پولیٹن کا فوری انخلاء کا حکم

datetime 5  جولائی  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)کراچی کی طرح راولپنڈی میں 250بوسیدہ عمارات خطرناک قرار دے دی گئیں، میٹرو پولیٹن نے فوری انخلا کا حکم دے دیا، میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022کے تحت مالکان کو نوٹس جاری کرد ئیے ہیں جبکہ عدم تعمیل پر مکینوں اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ بھی کیا گیا ہے۔راولپنڈی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے راجہ بازار اور قریبی علاقوں میں موجود 250 بوسیدہ عمارتوں کو انسانی جانوں کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے مالکان کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

راولپنڈی کے اندرون شہر میں واقع ان پرانی عمارتوں میں سے 188عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں، جنہیں شدید خطرناک قرار دیا گیا ہے، متاثرہ علاقوں میں راجہ بازار، بھابڑا بازار، موتی مسجد گلی اور ڈنگی کھوئی شامل ہیں۔میٹروپولیٹن حکام کے مطابق متعدد عمارتیں رہائشی اور کمرشل دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے، مکین متبادل رہائش نہ ہونے کے باعث گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں جبکہ مسلسل بارشوں اور ممکنہ زلزلے کی صورت میں ان عمارتوں کے منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے مکینوں کو مرمت یا انہدام کی ہدایت کی ہے جبکہ عدم تعمیل پر مکینوں اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اور عدالتی احکامات کے باوجود خطرناک عمارتوں کے خلاف مثر کارروائی نہ ہونے کے سبب شہریوں کی جانیں 2 دہائیوں سے خطرے میں ہیں۔مکینوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…