منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی میں قبر سے میت غائب، دربار بنانے کیلئے دوسری جگہ دفنانے کا انکشاف

datetime 20  جون‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی کے تھانہ گوجرخان کے علاقے چنگا میرا کے مقامی قبرستان میں رات کی تاریکی میں قبر کھود کر میت کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا انکشاف ہوا ہے، پولیس نے 3نامزد اور 10نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق محمد اشفاق نامی بزرگ جو 3مارچ کو وفات پا گئے تھے انہیں ورثا نے چنگا میرا قبرستان میں دفن کیا تھا۔

متوفی کے عزیز کامران ساجد نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ موضع پڑی میں اپنے گھر موجود تھا کہ محمد نذیر نامی شخص نے اطلاع دی کہ رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد نے آپ کے سسر کے بھائی محمد اشفاق کی قبر کو کھود کر میت کو نکال کر کہیں اور منتقل کر دیا ہے۔مدعی کے مطابق موقع پر پہنچا تو واقعی میت قبر میں نہ تھی، گائوں کے افراد نے بتایا کہ حنیف، اختر، عمران اور دیگر دس نامعلوم افراد نے اس کارروائی میں حصہ لیا اور میت کو تقریبا 100میٹر دور منتقل کر کے دفن کر دیا۔مدعی مقدمہ نے بتایا کہ متوفی فقیر منش آدمی تھے، ملزم حنیف نے اس سے قبل مسجد میں اعلان کیا تھا کہ وہ محمد اشفاق کا دربار بنائے گا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور دفعہ 297 ت پ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ایس پی صدر نبیل کھوکھر نے کہا ہے کہ مرکزی ملزم حنیف حنفی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے، ملزمان کا مقصد نئی قبر پر دربار قائم کرنا تھا۔ورثاء کی درخواست اور عدالت کی اجازت سے میت کو دوبارہ اصل قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ایس پی صدر نے کہا ہے کہ سنگین اور حساس واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں جنہیں جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…