منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں آنے والے زلزلوں کی حیران کن وجہ سامنے آگئی

datetime 20  جون‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی) کراچی میں آنے والے زلزلوں کی حیران کن وجہ سامنے آگئی ، ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے حکومت کو سنگین معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مشورہ دیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ماہ جون کے آغاز سے اب تک 45 زلزلے کے جھٹکے محسوس ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیاں بھی ہیں،زیرِ زمین پانی کے بے تحاشہ استعمال سے قدرتی توازن بگڑ رہا ہے، جس سے زمین کی اندرونی ساخت کمزور ہو کر زلزلے کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔

ماہر ارضیات سربراہ سونامی وارننگ سیل امیر حیدر نے کہا کہ لانڈھی فالٹ لائن کے صحیح ہونے سے زیرِ زمین میں جمع ہونے والی گیس آہستہ آہستہ خارج ہو رہی ہے، جس سے چھوٹے زلزلے آ رہے ہیں۔ماہرین ارضیات کے مطابق زمین کی غیر معمولی حرکت کو صرف قدرتی عمل نہیں مان سکتے، شہر میں گزشتہ 19 دنوں کے دوران کراچی میں 45 زلزلے ریکارڈ ہوئے ہیں، جن میں کم سے کم 1.5 جبکہ زیادہ سے زیادہ 3.6 شدت ریکارڈ ہوئی ہے۔اس سے قبل بین الاقوامی تحقیق کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان لانڈھی اور ملیر کی زمین 15.7 سینٹی میٹر تک دھنسی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ کراچی کی ساحلی پٹی دھنس رہی ہے اور عمارتیں گرنے کاخطرہ پیدا ہوگا، حکومت کو سنگین معاملے کا فوری نوٹس لینا چایئے۔

ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر رپورٹ میں بتایا گیا یہ رفتار چینی شہر تیانجن کے بعد دنیا میں تیز ترین ریکارڈ ہوئی، جس سے شہر کے ساحلی علاقوں پر زمیں بوس ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ بے جا تعمیرات اور ساحلی زمینوں کے غیر ضروری استعمال ہونے سے آئندہ چند برسوں میں شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر ماہرین نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بورنگ پر فوری پابندی لگائی جائے اور متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…