منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی ، 69 سالہ بزرگ کزن سے زیادتی کے ملزم کو 15سال قید کی سزا سنادی گئی

datetime 16  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سیشن عدالت نے قریبی رشتہ دار خاتون سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں نامزد شخص کو جرم ثابت ہونے پر 15 سال قید اور مالی جرمانے کی سزا سنا دی۔ جمعرات کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبداللہ عثمان نے فیصلہ سناتے ہوئے متاثرہ خاتون کو ہرجانے کے طور پر دو لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔مقدمے کی تفصیل کے مطابق، تھانہ جاتلی پولیس نے 26 اپریل 2023 کو متاثرہ 69 سالہ خاتون کی درخواست پر نتھہ چھتر گوجرخان کے رہائشی عبدالرشید کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم نے رات کے وقت خاتون کے گھر میں گھس کر اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ خاتون، جو کہ ملزم کی غیر شادی شدہ تایا زاد ہے، اکیلی رہائش پذیر تھی۔عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے دفعہ 376 کے تحت ملزم کو 10 سال قید اور ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی۔ مزید برآں، عدالت نے متاثرہ کو ہرجانے کے طور پر 2 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا اور واضح کیا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کی جائیداد فروخت کرکے رقم وصول کی جائے گی۔اسی مقدمے میں دفعہ 452 کے تحت ملزم کو مزید 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ بھی سنایا گیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 3 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

عدالت نے ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کے تحت یہ رعایت دی ہے کہ جیل میں گزارا گیا عرصہ سزا میں شامل تصور کیا جائے گا۔ادھر سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن، تفتیشی ٹیم اور قانونی عملے کو سراہا اور کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…