منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

نور خان بیس پر حملے کے وقت پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑیوں کا طیارہ نور خان ایئر بیس پر ہی کھڑا تھا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے راولپنڈی میں نور خان ایئر بیس پر حملے کے وقت ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کو لے جانے والا خصوصی طیارہ وہیں موجود تھا، جسے سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ جس لمحے بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نور خان ایئر بیس کو نشانہ بنایا، عین اسی وقت ایک چارٹرڈ فلائٹ غیر ملکی کھلاڑیوں کو لے کر روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ میزائل اس طیارے کو بھی نشانہ بنا سکتے تھے، نتیجے میں ناقابلِ تصور سانحہ رونما ہو سکتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا جنگی رویہ خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے، اور عالمی برادری کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

اسی حوالے سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ایک فرنچائز کے مالک نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ نہایت نازک تھا۔ رپورٹس کے مطابق، غیر ملکی کھلاڑیوں کو محفوظ طریقے سے روانہ کرنے کے لیے فلائٹ پروٹوکول میں فوری طور پر اہم تبدیلیاں کی گئیں، اور پرواز کو تیزی سے ایڈجسٹ کیا گیا۔

معتبر ذرائع کے مطابق بھارتی میزائل حملے اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی روانگی میں صرف چند منٹ کا فرق تھا۔ اگر پرواز میں تھوڑی سی بھی تاخیر ہوتی تو ایک سنگین جانی نقصان ممکن تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…