منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

رجب بٹ پر لندن میں قاتلانہ حملہ

datetime 30  اپریل‬‮  2025 |

لندن (نیوز ڈیسک) معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان پر لندن میں ایک سنگین حملہ کیا گیا جس سے وہ بال بال بچے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی خوفناک تھا اور وہ محض اللہ کے کرم سے زندہ بچ نکلے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں رجب بٹ کی گاڑی کے شیشے ٹوٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ وہ خود “اللہ اکبر” کے نعرے کے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولتے نظر آتے ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد انہوں نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اس واقعے کو محض افواہ یا ڈرامہ قرار دینے والوں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا: “یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک تلخ اور حقیقت پر مبنی واقعہ ہے۔”

رجب بٹ نے بتایا کہ وہ اس حملے سے محفوظ رہنے پر شکر گزار ہیں، تاہم انہوں نے واقعے کی مزید تفصیلات فی الحال ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایک مکمل وی لاگ جاری کریں گے، جس میں وہ تمام پہلوؤں سے روشنی ڈالیں گے کہ اصل میں کیا ہوا۔

اپنے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے رجب بٹ نے ایک اہم اعلان بھی کیا کہ وہ جلد پاکستان واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے انہوں نے مزید معلومات اگلی ویڈیوز کے لیے محفوظ رکھیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رجب بٹ کچھ عرصہ قبل ایک متنازعہ ویڈیو کے بعد پاکستان چھوڑ کر لندن منتقل ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق، انہیں ماضی میں بھی سنگین نوعیت کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں، جو ممکنہ طور پر ان کی بیرونِ ملک روانگی کی وجہ بنی۔

اب یہ تازہ واقعہ ان کے چاہنے والوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی جان لیوا حملہ تھا یا کوئی اور پہلو بھی اس واقعے میں شامل ہے؟ ممکنہ طور پر ان کے آئندہ وی لاگ میں اس کا جواب سامنے آ جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…