منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

12 سال قبل پسند کی شادی کرنے والی 4 بچوں کی ماں والدین کے گھر میں قتل

datetime 18  اپریل‬‮  2025 |

بٹگرام (این این آئی)بٹگرام میں 12 سال قبل پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو والدین کے گھرمیں گلا دبا کر قتل کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مقتولہ کی موت گلہ دبانے سے ہوئی ، عدالت کے حکم پر قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں جرگہ داروں سمیت 8 ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق بٹل شارکہ کے رہائشی محمد صادق ولد میاں داد نے تھانہ کوزہ بانڈہ میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بارہ سال قبل اس کی خاتون سکینہ دختر عبداللہ سے پسند کی شادی ہوئی تھی۔

اس نے کہا کہ اس کے نتیجے میں راضی نامہ کے لیے جرگہ داروں شاہ جہان اور میاں سید وغیرہ نے 8 لاکھ روپے وصول کرکے مقتولہ کے والد کو نہیں دیے جس کے نتیجے میں دو سال قبل محمد یوسف جوکہ مقتولہ کا ماموں ہے اپنے بیٹے پرویز کے ہمراہ آیا اور دو بچوں اور ایک بچی سمیت میری اہلیہ کو اپنے ساتھ بانڈیگو بٹگرام لے گیا اور پھرآج تک واپس نہیں بھیجا۔اس دوران میں نے بیوی کو واپس لانے کی متعدد بار کوشش کی، ان کیساتھ متعدد بارجرگے کیے مگر انہوں نے میرے دو بچوں کو تو واپس کردیا جب کہ اہلیہ اورایک بچی کو واپس نہیں کیا۔کچھ دن قبل میری اہلیہ نے چوری چھپے مجھ سے دوبارہ رابطہ کرکے واپس آنے کی خواہش کی اور وہاں سے خود نکلنے کی بھی کوشش کی تو اس کے گلے میں پھندہ ڈال کر قتل کردیاگیا۔

پولیس نے مدعی کی رپورٹ پرپولیس اسٹیشن علاقہ کوزہ بانڈہ بٹگرام میں علت نمبر 68 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 302,311 ,109،202,147اور 149 کے تحت کل آٹھ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات تفتیش شروع کر دی۔مقامی زرائع نے انکشاف کیا کہ اس کہانی کے جرگہ داروں نے صلح کی رقم وصول کرکے مقتولہ کے والد کو ادا کرنے کے بجائے خود ہڑپ کرلی جس کی وجہ سے پسند کی شادی کرنے کا یہ تنازع طول پکڑگیا اورآج تک ختم نہیں ہوسکا اور چار بچوں کی ماں کی پسند کی شادی کرنے پر قتل کردی گئی۔زرائع نے بتایا کہ مقتولہ کی بچی اوراس کے شوہرکو بھی خطرہ لاحق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…