اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی شہرت یافتہ برازیلین علمِ نجوم کے ماہر، ایتھوس سلومی نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک خفیہ اور غیر روایتی جنگ کے نرغے میں ہے اور تیسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔
ایتھوس سلومی، جنہیں بعض لوگ موجودہ زمانے کا “نوسٹراڈیمس” بھی کہتے ہیں، اس سے قبل کوویڈ-19 کی وبا، ملکہ الزبتھ دوم کی وفات، اور یوکرین پر روسی حملے جیسے اہم عالمی واقعات کی پیشگوئیاں کر چکے ہیں۔ اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حالیہ جغرافیائی اور سیاسی پیش رفت عالمی سطح پر کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک موڑ کی طرف لے جا رہی ہے۔
ان کے مطابق، دنیا ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سلومی نے کہا کہ اگرچہ بظاہر مختلف خطوں میں ہونے والے واقعات علیحدہ علیحدہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ سب ایک بڑی تصویر کے حصے ہیں، جو ایک عالمی سطح پر جاری ہائبرڈ جنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔
نجومی نے بطور مثال بالٹک سمندر میں زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیا، جس کے بعد سویڈن اور فن لینڈ میں مواصلاتی نظام متاثر ہوا اور ان ممالک نے تخریب کاری کے شبہ میں تحقیقات کا آغاز کیا۔ سلومی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کیبلز پر حملے آج کے دور کی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکے ہیں، جو براہِ راست کسی روایتی فوجی حملے جتنے تباہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین حالیہ سائبر اور انفرااسٹرکچر حملوں کے بعد فوری اقدامات پر مجبور ہو چکے ہیں، اور اپنی سیکیورٹی حکمت عملیوں کو ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں۔
اپنی پیش گوئی میں ایتھوس سلومی نے خبردار کیا کہ جس طرح ماضی میں پہلی عالمی جنگ ایک فرد کے قتل سے اور دوسری جنگ پولینڈ پر حملے سے شروع ہوئی، اسی طرح موجودہ غیر محسوس جنگ بھی دنیا کو کسی بڑے تنازع میں دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک اور ممکنہ خطرے کے طور پر بیان کیا۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر واقعی بالٹک سمندر میں جاری سرگرمیوں کو “غیر مرئی جنگ” تسلیم کر لیا جائے، تو اس پر عالمی طاقتوں — خاص طور پر نیٹو اور روس — کا ردِعمل کیا ہوگا؟ اور یہ صورتحال مستقبل میں دنیا کو کس راہ پر لے جا سکتی ہے؟
ایتھوس سلومی نے دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ علامتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ دنیا ایک نئے دور کے خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔