پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

نقلی پستول سے اسلحہ کی دکان میں ڈکیتی کرنیوالا دکاندار کی فائرنگ سے مارا گیا

datetime 21  مارچ‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد میں نقلی پستول سے اسلحہ کی دکان میں ڈکیتی کرنے والا دکان دار کی فائرنگ سے مارا گیا۔صدر کے علاقے میں اسلحہ کے دکاندارکی فائرنگ سے مبینہ ڈکیت ہلاک ہوگیا، جو نقلی پستول لے کر اسلحہ کی دکان میں داخل ہوا تھا اورایک 9 ایم ایم پستول چھین کرفرارہورہا تھا کہ دکاندارنے فائرنگ کردی۔تھانہ صدر کی حدود زاہد نہاری والی گلی میں دکاندارکی فائرنگ سے ہلاک ڈاکو کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں اس کی شناخت 32 سالہ دائود محمد ولد عبدالقادر کے نام سے کی گئی۔فائرنگ کے واقعے کی اطلاع پر پولیس افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اورفوری طورپرشواہد اکھٹا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کوموقع پر طلب کرلیا گیا۔

ایس ایچ او صدر عمران زیدی نے بتایا کہ ہلاک ملزم نقلی پستول لیے اسلحہ کی دکان میں داخل ہوا اور نقلی پستول تان کر دکان سے ایک 9 ایم ایم پستول چھینی اور فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو رہا تھا کہ دکاندار بھی اس کے پیچھے بھاگے۔اس دوران جس دکان سے ڈکیت نے اسلحہ چھینا تھا، اس دکاندار عرفان شاہ نے فائرنگ کردی، جس کے باعث ڈکیت 2 گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا ۔ہلاک ڈکیت کے قبضے سے ایک نقلی پستول اور اسلحہ کی دکان سے چھینی گیا پستول برآمد کرلیا گیا ہے۔پولیس افسر نے بتایا کہ ہلاک ڈکیت کا سابق کرمنل ریکارڈ بھی سامنے آگیا ہے، جو اس سے قبل صدر اور گلشن معمار پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…