اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی ڈاکٹروں کانیشنل رجسٹریشن امتحان سٹیپ II میں شرکت کے مواقع بحال کرنے کامطالبہ

datetime 3  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)بیرون ملک سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو خط لکھ کر نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) سٹیپ II میں شرکت کے مواقع بحال کرنے اور مینڈیٹری سٹیشنز کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ دسمبر 2023 میں ہونے والے این آر ای سٹیپ II امتحان میں کئی امیدواروں نے 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، لیکن انہیں ناکام قرار دے کر جولائی 2024 کے امتحان میں شرکت سے روک دیا گیا، جو کہ 12 جون 2024 کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر کیا گیا۔درخواست گزاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قواعد و ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ دسمبر 2023 کے امتحانات پی ایم ڈی سی کے 19 اکتوبر 2023 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق منعقد کیے گئے تھے، جس میں این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔

خط میں مو¿قف اختیار کیا گیا کہ ستمبر 2023 میں پی ایم ڈی سی بورڈ کونسل کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کے مواقع کی کوئی حد نہیں ہوگی، تاکہ امیدواروں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ تاہم جون 2024 میں اچانک جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے تحت امتحانات کی تعداد کو محدود کر دیا گیا، جو ڈاکٹروں کے مطابق سراسر زیادتی ہے۔خط میں کہا گیا کہ پی ایم ڈی سی کی تاریخ میں پہلی بار این آر ای سٹیپ II کے امتحانات ( مواقع) کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ اس سے قبل غیر ملکی فارغ التحصیل ڈاکٹروں اور پی ایم ڈی سی بورڈ کے اتفاق رائے سے یہ شرط ختم کر دی گئی تھی۔درخواست گزار ڈاکٹروں نے سینیٹ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کے مواقع لامحدود ہونے چاہئیں یا کم از کم انہیں بحال کر کے 5 سال کیا جائے، تاکہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے محب وطن ڈاکٹروں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے۔

ڈاکٹروں نے مینڈیٹری سٹیشنز کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت کسی ایک سٹیشن میں ناکامی کی صورت میں پورے امتحان میں فیل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار طلباءکے ساتھ زیادتی اور ان کی تمام تر محنت پر پانی پھرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کریں اور ان ڈاکٹروں کو آئندہ امتحانات میں شرکت کا موقع فراہم کریں، ورنہ ملک میں طبی شعبے کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…