جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

برگر بیچنے والے نے کمائی میں بڑی کمپنیوں کے منیجرز کو پیچھے چھوڑدیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2024 |

ممبئی (این این آئی)سوشل میڈیا پر ممبئی میں برگر بیچنے والے ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہورہی جس کی سالانہ کمائی 24 لاکھ بھارتی روپے کے قریب ہے۔یعنی اس اسٹریٹ وینڈر کی ماہانہ کمائی تقریبا 2.80 لاکھ روپے ہے جبہ وہ 80 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے اور 2 لاکھ روپے کی بچت کرتا ہے، اس شخص کی ویڈیو پر ایک کروڑ کے قریب ویوز آچکے ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق لاکھوں روپے کی کمائی کرنے والے ٹھیلے والے کو دیکھ کر لوگوں کو سمجھ میں آ رہا ہے کہ پیسہ کمانے کے لیے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے مہنگے ترین دفتر میں بیٹھنا ضروری نہیں بلکہ اس کے لے لگن اور کاروبار کی ضرورت ہے۔ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں برگر (وڑا پاو) کو کافی پسند کیا جاتا ہے، ویڈیو میں ٹھلے والا کہتا ہے کہ صبح سے ہی ہم قریب 200 وڑا پاو بیچ چکے تھے جبہ شام ہوتے ہوتے یہ تعداد 622 پر پہنچ گئی ہے۔

اس کے ٹھیلے پر ایک برگر (وڑا پاو) کی قیمت 15 روپے ہے۔ اس طرح اس کی روزانہ کی کمائی قریب 9300 روپے ہو جاتی ہے۔ اگر آپ اسے پورے مہینہ میں دیکھیں تو کمائی 2.80 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔اس ویڈیو پر ایک شخص نے کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں، ایک شخص نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں بھی فوڈ کارٹ شروع کر دوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…