بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

گوجرانوالہ میں اسکول میں متعدد کم سن طالبات سے زیادتی کا ہولناک واقعہ

datetime 5  ستمبر‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی/نیوزڈیسک) سرکاری اسکول میں ٹیچر کے شوہر کی جانب سے طالبات سے زیادتی کا انکشاف ہوا۔ تفصیلات ک مطابق واقعہ تھیڑی سانسی میں گورنمنٹ نان فارمل ایجوکیشن اسکول میں پیش آیا۔ ساجدہ نامی خاتون نے محکمہ لٹریسی کے تحت گھر میں اسکول بنا رکھا تھا۔ساجدہ کے شوہر ملزم عمران نے اسکول کے اندر ایک کمرے میں کینٹین بنا رکھی تھی۔ ملزم مختلف حربوں سے کئی سالوں سے اسکول میں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔

ملزم نے ویڈیوز بھی بنا رکھی ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ بچیاں ڈر کے مارے خاموش رہیں۔ گزشتہ روز ایک بچی نے گھر والوں کو بتایا کہ اسے کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔بچی نے بتایا کہ اسکول میں اس کی دوسری دوستوں کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ متاثرہ بچی کے انکشافات پر والدین نے آپس میں رابطہ کیا اور پھر پولیس کو آگاہ کر دیا۔پولیس نے ملزم عمران کو گرفتار کر کے پانچ الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ متاثرہ طالبات کی عمریں گیارہ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔ ملزم نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ طالبات سامنے آئی ہیں خدشہ ہے متاثرہ بچیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے اسکول کو بھی تالہ لگا کر بند کر دیا ہے۔وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے گوجرانولہ میں سکول کی بچیوں سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے 2 اساتذہ معطل اور سکول عارضی طور پر بند کر دیا۔ وزیر تعلیم کی ہدایت پر سیکرٹری لٹریسی سید حیدر اقبال نے ڈپٹی ڈائریکٹر و اسسٹنٹ ڈائریکٹر لٹریسی اور ڈی ای او گوجرانولہ پر مشتمل محکمہ کے اعلی افسران کی 3 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔

سیکرٹری لٹریسی نے محکمہ جاتی تحقیقاتی ٹیم فی الفور گوجرانوالہ روانہ کر دی اور جائے وقوعہ کا جائزہ لینے، تحقیق کرنے اور متاثرہ طالبات، والدین اور اہلیان علاقہ کے بیانات قلمبند کرکے فوری رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سیکرٹری لٹریسی نے تحقیقاتی ٹیم کو متاثرہ طالبات کے والدین سے ملاقات کرنے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی بھی ہدایات دیں۔ دوسری جانب وزیر تعلیم کی ہدایت پر بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی۔ وزیر تعلیم اور سیکرٹری لٹریسی سید حیدر اقبال نے واضح کیا ہے کہ بچیوں سے زیادتی کے ملزم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور متاثرہ بچیوں کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…