ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس قا ضیٰ فائز عیسیٰ اور بھا ئی کی طرف سے دی جا نے والی عارضی حکومت بلو چستان نے قبو ل کر لی

datetime 14  اگست‬‮  2024 |

کوئٹہ ( این این آئی) 77ویں جشن آزادی کے پر مسرت موقع پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے بھائی قاضی عظمت عیسیٰ کی طرف سے عوامی فلاحی مقصد کے لئے ماحولیاتی مرکز قائم کرنے کے لئے (31680) سکوائر فٹ اراضی کا تحفہ بغیر کسی قیمت کے دیا ہے، جسے حکومت بلوچستان نے قبول کر لیا ہے۔ مذکورہ اراضی ضلع زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی کے متصل ہے۔ اس علاقے کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ایام کی رہائش گاہ کے طور پر خصوصی اہمیت حاصل ہے، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زیارت میں واقع صنوبر کا جنگل دنیا کے بڑے صنوبر کے جنگلات میں سے ایک ہے. اور یہاں پائی جانے والی صنوبر کی ایک قسم دنیا میں کہیں اور موجود نہیں ہے۔

یہاں موجود کچھ درخت ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ مذکورہ ماحولیاتی مرکز کا مقصد صنوبر کے جنگل کے تاریخی اور قیمتی ورثے کو محفوظ کرنا اور ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی دخل اندازی سے بچانا ہے۔مزید برآں اس حوالے سے تحقیق اور معلوماتی ترویج کرنا بھی ہے۔

مذکورہ بالا ماحولیاتی مرکز میں عوام الناس، سیاحوں، طلبائاور اساتذہ کے لئے مختلف سرگرمیاں بشمول نیچرواک، خصوصی نمائش اور معلوماتی لیکچرز و بروشرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس مرکز کے تحت بلوچستان کی تمام منفرد ماحولیاتی خوبصورتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے درپیش چیلنجز سے آگاہ بھی کیا جائے گا۔ نمائشی ہال، ٹورسٹ سنٹر اورسیمینار ہال اس مرکز کے اہم جزو ہو نگے۔ حکومت بلوچستان عزت مآب چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اورقاضی عظمت عیسیٰ کی مشکور ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی جائیداد عوامی مفاد کے لئے وقف کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…