جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک، ایکس، یوٹیوب صارف پر لگام ڈالنے کیلئے فائروال کا دوسرا کامیاب تجربہ

datetime 14  اگست‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں سوشل میڈیا فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر سماجی روابط کے پلیٹ فارم پر سیفٹی فائر وال کا دوسرا اور ممکنہ طور پر آخری کامیاب تجربہ گزشتہ رات مکمل کیا جس کے بارے میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے حکام نے چپ سادھ لی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ مہینوں خبریں زیر گردش تھی کہ حکومت نے سوشل میڈیا کو اپنے طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے انٹرنیٹ کمپنیز میں فائروال (فلٹر) لگانے کی تمام تیاری کرلی ہے جس کی بدولت سماجی روابط کی ویب سائٹ سائٹس مثلا فیس بک، یوٹیوب اور ایکس پر قابلِ اعتراض مواد مواد روکنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس ضمن میں خیال رہے کہ پاکستان میں فائر وال کوئی نئی چیز نہیں۔ سرکاری ادارے فائر وال ویب سائٹس اور سوشل ایپس کو بلاک کرنے کے لیے بروئے کار لاتے رہے ہیں۔ اب فائر وال کے استعمال کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے۔اب اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ سوشل میڈیا پر سیفٹی فائر وال کا آخری تجربہ کرلیا گیا ہے اور وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے حکام نے تجربے سے متعلق تصدیق یا تردید کرنے سے گریزاں ہیں۔اس حوالے سے وزارت آئی ٹی نے معاملہ پی ٹی اے کا قرار دیا جبکہ پی ٹی اے کے سینئر حکام نے رابطہ کرنے پر کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے انٹرنیٹ سروسز بری طرح متاثر ہونے سے صارفین کو دشواری کا سامنا ہے، متعدد مرتبہ آڈیو میسجز تک ڈان لوڈ نہیں ہورہے۔ حکام موبائل کمپینز کے مطابق سوشل میڈیا سروسز میں خلل موبائل کمپینز کا مسئلہ نہیں جبکہ پی ٹی اے معاملے پر کسی بھی قسم کا موقف دینے سے گریزاں ہے۔چند روز قبل ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ فائر وال کی آزمائش کی وجہ سے انٹرنیٹ سست روی کا شکار ہے، جس کی تصدیق اعلی حکام نے بھی کی۔ قبل ازیں 26 جولائی کو ملک میں نئے انٹرنیٹ سیکیورٹی نیٹ ورک سسٹم کی آزمائش سے نہ صرف سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بلکہ انٹرنیٹ کی رفتار بھی سست ہوگئی ہے۔حکومت پاکستان نے گریٹ فائر وال آف پاکستان کے لئے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اوور دی ٹاپ سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے فریم ورک پر کام تیز کردیا ہے، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کو پی ٹی اے اور پیمرا کے ماتحت بنانے کی تیاریاں مکمل کرلی۔اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کرلی ہے، او ٹی ٹی ریگولیٹری فریم ورک کو اتھارٹی سے منظوری کے بعد کابینہ سے منظور کرایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…