ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نایاب جنگلی پودوں کی بھاری مقدار میں بیرون ملک اسمگلنگ ناکام

datetime 3  جولائی  2024 |

کراچی(این این آئی) سندھ وائلڈ لائف اور اینٹی نارکوٹکس فورس نے مشترکہ کارروائی کے دوران ساوتھ ایشیا ٹرمینل پر نادر و نایاب جنگلی پودوں گگرال، کٹکی اور ملیٹھی کی بھاری مقدار بیرون ملک اسمگل ہونے کی کوشش ناکام بنادی۔ترجمان سندھ وائلڈ لائف کے مطابق سری لنکا کے لیے بک کیے گئے کنٹینر سے تحفظ یافتہ اور نایاب جنگلی پودے گگرال کی گگلو گوند کی 500 کلو گرام، کوہ ہمالیہ سلسلے کے جنگلوں میں پائے جانے والے نایاب و معدومیت کے خطرے سے لاحق پودے ککی کے 250 کلوگرام اور 4 ہزار کلو گرام ملیٹھی کے پودے تحویل میں لے لیے گئے۔

ترجمان کے مطابق جڑی بوٹیاں تحفظ جنگلی حیات صوبہ سندھ کے قوانین اور پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا ایکٹ 2012 و رولز 2018 کے تحت ضبط کی گئیں اور ایکسپورٹر کے خلاف مقدمہ نمبر 5/2024 درج کرلیا جو کہ ٹرائل کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج کراچی ساوتھ کی عدالت میں پیش کردیا گیا،چیف کنزرویٹر سندھ وائلڈ لائف جاوید مہر کے مطابق گگر نامی پودا سندھ میں کیرتھر نیشنل پارک، رن آف کچ اور وائلڈ لائف سینکچوری، گورکھ ہلز، کیرتھر رینج، بلوچستان میں قدرتی طور پایا جاتا ہے جبکہ کٹکی نامی جڑی بوٹی سائٹیز لسٹ دوم میں شامل جنگلی پودا اور ملیٹھی کوہ ہمالیہ سلسلے کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔

وائلڈ لائف کے مطابق مذکورہ پودے نایاب اور نظام فطرت کے خوراک کے سلسلے و ایکوسسٹم میں اہم کردار کے حامل ہیں، ملکی قوانین کے مطابق تمام جنگلی حیات و نباتات چاہے وہ سائیٹیز لسٹیڈ ہوں یا نہ ہوں اور ان سے نکلنے والی پروڈکٹس بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کے لیے سائیٹیز مینیجمینٹ اتھارٹی منسٹری آف کلائیمٹ چینج، گورنمنٹ آف پاکستان سے پاکستان ٹریڈ کنٹرول ایکٹ آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا کے تحت خصوصی اجازت نامہ مطلوب ہوتا ہے جو کہ متعلقہ صوبائی حکومت کی طرف سے این او سی، سائنسی رپورٹس اور ماہرانہ تجزیوں و تحقیق سے مشروط ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…