جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم لیگ (ن) کو میں اپنی شرائط پر ووٹ دوں گا، بلاول بھٹو

datetime 20  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر مجھے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا ہے تو میں انہیں اپنی شرائط پر ووٹ دوں گا،جتنی جلدی حکومت سازی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے اتنا ہی بہتر ہے،پاکستانی عوام نے کسی ایک جماعت کو حکومت کرنے کیلئے اکثریت ہی نہیں دی، تحریک انصاف بات نہیں کر تی ، ہمارے پاس جو بھی آئیگا ہم بات کرینگے ،سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھ کر بات کرنی پڑے گی۔ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کے دوران سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی تشکیل میں یہ جو سست روی ہے یہ ڈائیلاگ کمیٹی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سست روی سے نقصان پاکستان اور اس کی جمہوریت کو ہو رہا ہے، ہم اپنے مؤقف پہ قائم ہیں، ہم اسے تبدیل نہیں کریں گے لیکن اگر کوئی اور اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گا تو پھر ایک رکاوٹ آجائے گی اور اس کے نتیجے میں جو ہوگا وہ نا پاکستان کی جمہوریت کے فائدے میں ہوگا نا معیشت کے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ پاکستان کے انتخابات کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہوںے کہاکہ جتنی جلدی حکومت سازی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے اتنا ہی بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کی بات ہے یہ تو ایک بہت مزے کی بات ہے کہ تکنیکی طور پر وہ سب سے بڑی جماعت ہے مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو کسی سے بات نہیں کرنی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دوسری طرف (ن) لیگ ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو ہمارے پاس آئے گا، ہم ان سے بات کریں گے۔سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا پاکستان کی عوام نے کسی ایک جماعت کو وہ اکثریت ہی نہیں دی کہ وہ اپنے طور پر حکومت کرسکے۔انہوںنے کہاکہ میں اپنی مہم کے مطابق چلا اور اگر انتخابات جیت جاتا اور واحد سب سے بڑی جماعت میری ہوتی تو میں سب کو کہہ سکتا تھا کہ یہ واحد میرا مینڈیٹ ہے کسی اور کا نہیں مگر عوام کا شعور دیکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے پیغام دیا کہ اس ملک کو ایک جماعت نہیں چلا سکتی بلکہ آپس میں فیصلہ سازی کرنی ضروری ہے، وہ کسی ایک کو اختیار دے ہی نہیں رہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر (ن) لیگ، پی ٹی آئی کو حکومت کرنا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ ملنا پڑے گا۔بلاول بھٹو نے بتایا کہ یہ جمہوریت کی کمی نہیں بلکہ برعکس ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھ کر بات کرنی پڑے گی تاکہ پارلیمانی نظام، وفاق، معیشت کو بچا سکیں، اس صورتحال سے نکلنے کا واحد طریقہ باہمی مشاورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…