الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا

13  فروری‬‮  2024

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ کمیشن اکا دکا واقعات سے انکار نہیں کرتا تاہم تدارک کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایات پر فوری فیصلے کیے جارہے ہیں، مشکلات اور مسائل کے باوجود 8 فروری کو انتخابی عمل پر امن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہے، انتخابات ایک بہت بڑا آپریشن تھا جسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا، الیکشن منیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس)نے ریٹرننگ افسران (آر اوز)کے دفاتر میں تسلی بخش کام کیا۔

پیر کو جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے اور انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو بے پناہ چیلنجز درپیش تھے جن سے عہدہ برا ہونے کیلئے وقتا فوقتا مختلف اقدامات عمل میں لائے گئے،اس حوالے سے یہ بات زبان زدعام تھی کہ انتخابات کا انعقاد مقررہ تاریخ پر نہیں ہو پائیگا۔ الیکشن کمیشن نے اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے تمام ممکن عملی اقدامات کیے اور انتخابات مقررہ تاریخ پر کروائے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ آٹھ فروری کے انتخابات کے کامیاب انعقاد کیلئے الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنا، پولنگ عملے کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، پولنگ میٹریل کی بحفاظت نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور درست نتائج کی ترتیب و تدوین انتہائی اہم ترجیحات تھیں جنہیں بقیہ تمام عوامل پر مقدم رکھا گیا اور سیکیورٹی کے چیلنجز کے باوجود پر امن پولنگ کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ نتائج میں تیزی کی خاطر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یا نتائج کی درستگی کو مشکوک بنانا نامناسب تھا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص انتخابات کے نزدیک مختلف مقامات پرسیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت نے انتخابات کے انعقاد کو ایک چیلنج بنا دیا،ایسی صورت حال میں انتخابی عمل اور بالخصوص نتائج کی تیزی کے لیے انسانی جانوں کو خطرات میں جھونکنے سے پورے انتخابی عمل کے سبو تاژ ہونے کا خطرہ موجود تھا جس کے تدارک کے لیے ترجیحی اقدامات کیے گئے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ سکیورٹی اداروں کے مشورہ پر وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کی بندش کے علاوہ پولنگ کے عمل کو پرامن اورمنظم رکھنے اور پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی حفاظت کے لیے گروپوں کی صورت میں سیکیورٹی کے حصار میں نقل و حمل کو یقینی بنایا گیا تاہم موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث رابطہ نہ ہونے، پولنگ سٹیشنوں کے طویل فاصلوں اور دور دراز جگہوں پر واقع ہونے، رات کے اندھیرے میں سفر ،بعض علاقوں میں موسم کی شدت اور برف کی موجودگی اور بعض مقامات پر شاہراں پر ہارنے والے امیدواروں کے حامیوں کے جانب سے دھرنے دیے جانے کے باعث پولنگ عملے کو نقل و حمل میں مشکلات پیش آئیں۔

اعلامیہ میں کہاگیا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی نقل و حمل کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنا پڑے،ملک کے کئی حصوں میں سیکیورٹی کی صورت حال اور کوآرڈی نیشن میں آسانی کے لیے پانچ سے چھ ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر ایک ہی جگہ پر بنائے گے تاہم ان دفاتر پر جہاں پولنگ عملے کی آمد سے رش بڑھا وہاں کئی جگہوں پر ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر کے سامنے بے پناہ ہجوم بھی اکٹھا ہوا جس کے باعث پولنگ عملے کو پولنگ میٹریل جمع کرانے میں مشکلات پیش آئیں جن کا انتخابی نتائج کی ترتیب و تدوین پر بھی فرق پڑا۔تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن علاقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر بھی ہوئی وہاں نتائج کا ملا جلا رحجان رہا اور کسی ایک جماعت کو کسی طور پر فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ ای ایم ایس کا بنیادی کام آر اوکے دفاتر میں پریزائیڈنگ آفیسرزکے ذریعے جمع کرائے گئے ،نتائج کی تیاری اور تدوین تھا اور فارم47غیر حتمی نتیجہ تیار کر کے نتائج کا اعلان کرنا تھا۔

پریزائیڈنگ آفیسرز کو پولنگ سٹیشن پر فارم45 تیار کر کے اسے اپنے موبائل فون کی مدد سے الیکٹرانک طریقے سے اپنے آر اوکو بھیجنا تھا۔نیز الیکشنز ایکٹ2017 کے سیکشن 90 کے تحت پریزائیڈنگ آفیسر نے اپنے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر ذاتی طور پر پہنچنا تھا۔یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آر اوکے دفاتر میں نصب ای ایم ایس کا نظام کنیکٹوٹی پر منحصر نہیں تھا اور ای ایم ایس نے آر اوکے دفتر میں تسلی بخش کام کیا۔ تاہم پریزائیڈنگ آفیسرز کے فونز میں انسٹالڈ ای ایس ایم موبائل ایپ کو فارم۔45 الیکٹرانک طور پر بھیجنے کے لیے سیلو لر کنیکٹوٹی کی ضرورت تھی چونکہ سیلولر سگنلز کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا اس لیے پریزائیڈنگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز کو الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے۔

مزید یہ کہ معمول کی کوآرڈی نیشن اور انتظامی نقل و حمل کے مجموعی عمل کو موبائل سگنلز کی بندش نے بری طرح متاثر کیاجو کہ مزید تاخیر کا باعث بنا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ 2018 کے جنرل الیکشن میں پہلا نتیجہ صبح 4 بجے موصول ہوا جبکہ 2024 میں پہلا نتیجہ رات 2 بجے موصول ہوااسی طرح 2018 میں نتائج کی تدوین تقریباً 3 دن میں مکمل ہوئی جبکہ اس مرتبہ کچھ حلقوں کے علاوہ ڈیڑھ دن میں انتخابی نتائج مکمل ہوئے،ان مشکلات اور مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن 8 فروری کو الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہا،یہ ایک بہت بڑا آپریشن تھا جو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا جس کا اعتراف سول سوسائٹی تنظیموں، مقامی و عالمی مبصرین اور میڈیا نے بھی کیا اور پولنگ کے انتظامات، پولنگ عملے کی تربیت، پولنگ سٹیشنوں پر نظم و ضبط اور عوام کی ایک بڑی تعداد کے ووٹنگ کے عمل میں شریک ہونے کو سراہا جو انتخابی عمل کی کامیابی کی دلیل ہے۔

اعلامیہ میں کہاگیاکہ الیکشن کمیشن انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے تاہم اکا دکا واقعات سے انکار نہیں جس کے تدارک کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں اور الیکشن کمیشن ان دنوں میں بھی دفتری اوقات اور دفتر کے بعد بھی دیر تک ایسی شکایات کو وصول کر رہا ہے اور ان پر فوری فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ الیکشن کمیشن انتخابات کے پرامن انعقاد پر نگران وفاقی حکومت، نگران صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاک فوج، دیگر اداروں اور پولنگ سٹاف کا شکریہ ادا کرتا ہے۔



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…