جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عثمان ڈار کی والدہ نے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے

datetime 23  دسمبر‬‮  2023 |

سیالکوٹ (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز نے عام انتخابات کے لیے سیالکوٹ میں کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ریحانہ امتیاز الدین ڈار قومی اسمبلی کے حلقے این اے 71 اور صوبائی اسمبلی پی پی 47 سے الیکشن لڑیں گی۔یاد رہے کہ 19 دسمبر کو عثمان ڈار کی والدہ نے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف پر اپنے گھر پر حملہ کروانے کا الزام عائد کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ یہ ظلم کی انتہا ہے، پھر خواجہ آصف نے میرے گھر پر حملہ کروایا۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں انہوںنے کہاکہ کچھ لوگ میرے گھر کا دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئے، انہوں نے مجھے زدو کوب کیا، میرے سر سے چادر اتاری، میرے بال کھینچے، سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے الیکشن کے کاغذات جمع کروانے جانا ہے، یہ میرے دل کی آواز ہے، میں نے حدیث و قرآن کے مطابق فیصلہ کیا ہے، کوئی مجھے ٹارچر کر کے اپنی من مانی نہیں کروا سکتا، میرے گھر پر انہوں نے میری قمیض کو پھاڑ ڈالا۔انہوں نے خواجہ آصف کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ میرے گھر کو بلڈوزر سے ڈھیر کروا دو اور پھر میدان میں آؤ اور دیکھو میں تمہارے شیر کا کیا حشر کرتی ہوں، مجھے ہتھکڑیاں لگاؤ تب بھی کاغذات نامزدگی جمع کرواؤں گی، میں جیل میں بھی الیکشن لڑوں گی۔

والدہ عثمان ڈار نے کہاکہ یہ میرا پیغام ہے آپ (خواجہ آصف) کو اور شہر سیالکوٹ کے عوام کو، آپ نے میرے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سن کر 20 پولیس کے افسران کو آدھی رات کو میرے گھر پر بھیج دیا، میں چیف جسٹس صاحب سے انصاف چاہتی ہوں۔دوسری جانب پولیس نے کہا کہ عثمان ڈار کے گھر پر چھاپہ اشتہاری ملزم عمر ڈار کی گرفتاری کے لیے قانونی طریقے سے مارا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب چھاپہ مارا گیا تو گھریلو خواتین نے ناشائستہ زبان کا استعمال کیا، ہمارے جانے کے بعد یہ من گھڑت کہانی بنائی گئی کہ پولیس نے تشدد کیا ہے، ان تمام باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، کسی اشتہاری ملزم کو پناہ دینا یا ان کی مدد کرنا قانونی جرم ہے۔بعد ازاں خواجہ آصف نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…