جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایس آئی کو بشری بی بی اور لطیف کھوسہ کی آڈیو لیک کرنیوالے کا پتہ لگانے کا حکم

datetime 8  دسمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی اور لطیف کھوسہ کی مبینہ آڈیو کو سوشل میڈیا پر لیک کرنے والے کی شناخت کے لیے آئی ایس آئی کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔بشریٰ بی بی اور لطیف کھوسہ کی مبینہ آڈیو لیکس کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ تمام دستیاب ٹیکنالوجیز بروئے کار لا کر پتہ لگایا جائے کہ آڈیو سب سے پہلے کس نے لیک کی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی جی لا پیمرا اور ڈی جی لا پی ٹی اے کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ڈی جی پیمرا میڈیا کے کوڈ آف کنڈکٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں، عدالت کو بتایا جائے کہ کیا اس طرح کی آڈیوز قومی میڈیا پر نشر کی جا سکتی ہیں؟تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور پی ٹی اے 10 دن میں اپنی رپورٹس دیں، پی ٹی اے اس اکانٹ کو ٹریس کرے جہاں سب سے پہلے آڈیو ریلیز ہوئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست اور عدالتی حکم نامہ ڈی جی آئی ایس آئی، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور پیمرا کو بھجوایا جائے، آڈیو لیکس کیس کے زیرِ سماعت ہونے کے دوران ایک اور آڈیو لیک ہو جانا پریشان کن امر ہے، آڈیو لیکس کے عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید ریاست کے پاس لیکس روکنے کی صلاحیت نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی تو اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔آڈیو لیکس کیس کی مزید سماعت 20 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…