منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز وزیر اعظم ہائوس لاہور حملہ کیس میں بھی نامزد، جوڈیشل ریمانڈ منظور

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا وزیر اعظم ہائوس لاہور حملہ کیس میں جسمانی ریمانڈ دینے کی لاہور پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔9 مئی واقعات کے حوالے سے درج مقدمات میں پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر موجود پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب کو لاہور پولیس نے وزیر اعظم ہائوس لاہور پر حملے کے مقدمے میں نامزد کر کے گرفتار کر لیا۔

نئے کیس میں نامزدگی کے بعد پنجاب پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کو عدالت میں پیش کیا اور ان کا 30 دن کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج عبہر گل نے درخواست پر سماعت کی، تفتیشی افسر نے درخواست کی کہ یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے ملک اور فوج کے خلاف سازش کے بابت تفتیش کرنی ہے، تاہم انسداد دہشت گردی عدالت نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے 4 دسمبر تک پولیس سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔خیال رہے کہ یاسمین راشد کو ابتدائی طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او)کے تحت 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ نے 13 مئی کو یاسمین راشد کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن محض چند گھنٹے بعد 9 مئی سے متعلق مزید تین مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا جن میں جناح ہائوس حملہ کیس بھی شامل ہے۔بعد ازاں پنجاب پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے عسکری ٹاور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں تفتیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس کے علاوہ عدالت نے اسی کیس میں مزید دفعات کے اضافے کے بعد سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔خیال رہے کہ 9مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…