جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

غیرت کے نام پر خاتون اور مرد قتل

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)شہرقائد کے علاقے منگھوپیر خیرآباد میں تشدد اور فائرنگ سے خاتون اور مرد جاں بحق ہوگئے ، واردات کے بعد ملزم نے خود پولیس کو واقعے کی اطلاع دی اور پولیس کے پہنچنے پر اپنے آپکو آلہ قتل( پستول)سمیت پولیس کے حوالے کر دیا۔مقتولہ 4 بچوں کی ماں تھی ، مقتول اور مقتولہ آپس میں رشتے دار تھے۔تفصیلات کے مطابق واقعہ منگھوپیر کے علاقے خیرآباد یار محمد گوٹھ پٹرول پمپ کے قریب گھر میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آیا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 25 سالہ نواب خان ولد حاکم خان اور مقتولہ کی شناخت 30 سالہ شہزادی زوجہ شیر گل کے نام سے کی گئی ہے۔مقتولین کے رشتے داروں نے عباسی شہید اسپتال میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ شہزادی کے شوہر کا تقریبا ڈیڑھ سال قبل انتقال ہوگیا تھا ، مقتولہ کی تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے جبکہ مقتول نواب خان غیر شادی شدہ اور محنت مزدوری کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مقتولین شہزادی اور نواب خان ایک ہی خاندان کے لوگ ہیں ، دونوں کا آبائی تعلق بھی وزیرستان میں ایک ہی قبیلے سے تھا۔شہزادی اور نواب خان کے آپس میں تعلقات پر دیگر رشتے داروں کو شبہ تھا جس پر ان دونوں پر کڑی نظر رکھی گئی تھی، نواب خان اپنے گھر سے شہزادی کے گھر گیا تو کچھ دیر بعد نواب خان کا رشتے میں ماموں علی خان اپنے دیگر رشتے داروں کے ہمراہ اس گھر میں داخل ہوا اور دونوں کو آہنی پائپ سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں کے چہرے اور آنکھوں میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

واقعے کے بعد تمام رشتے داروں کے متفقہ فیصلے کے بعد ملزم علی خان نے پولیس کو واقعے کی اطلاع کی اور خود بھی موقع پر موجود رہا ، پولیس کے آنے پر بتایا کہ اس نے اپنے بھانجے نواب خان اور خاتون رشتے دار شہزادی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا جبکہ آلہ قتل اس نے پولیس افسر کے حوالے کرتے ہوئے اپنی گرفتاری پیش کر دی۔پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا۔ سرکاری اسپتال میں حسب روایت لیڈی ایم ایل او کی عدم موجودگی کے باعث خاتون کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جا سکا۔عینی شاہدین کے مطابق جس کمرے میں مقتولین کو قتل کیا گیا اس کمرے کے در و دیوار پر مقتولین کے سر کے اعضا چپکے ہوئے تھے جبکہ خون کے دھبے بھی موجود تھے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…