منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب سے نوجوان لڑکیوں ،خواتین کو اغواء کرکے سندھ ،بلوچستان میں فروخت کرنے والے گروہ کا انکشاف

datetime 4  ستمبر‬‮  2023 |

مریدکے( این این آئی) پنجاب سے نوجوان لڑکیوں اور دیگر خواتین کو اغواء کرکے سندھ اور بلوچستان میں فروخت کرنے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے ، گروہ کا بڑا نیٹ ورک پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ شاہدرہ اور کوٹ عبدالمالک میں سرگرم ہے ۔

مریدکے کی بائس سالہ خاتون ایک بیٹے کی ماں سمیعہ چار ماہ بعد واپس پہنچ گئی ۔سمیعہ مریدکے جی ٹی روڈ کی آبادی پکے اسٹاپ کے رہائشی محنت کش مشتاق کی بیٹی ہے اور شاہدرہ چکیاں بیاہی ہوئی ہے ۔سمیعہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے بتایا کہ وہ ایک روز اپنے چار سالہ بیٹے عبدالہادی کے ہمراہ اسکے پیمپر لینے گھر سے نکلی کہ دو افراد نے اسے رومال سنگھایا اور رکشہ میں ڈال کر پیر بوری سرکار دربار کوٹ عبدالمالک کے ایک مکان میں لے گئے ،جب اسے ہوش آیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ سندھ کے علاقہ نواب شاہ کے قریبی علاقے مورو میں ہے اور تین لاکھ روپے میں فروخت ہوئی ہے ،اس گھر میں پنجاب سے اغواء کی گئی اور لڑکیاں بھی قید تھیں ۔

گھر میں ایک خاتون ،تین نوجوان لڑکے تمام مغوی لڑکیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے اور زیادتی بھی کرتے ،اسے بدکاری کے لئے مجبور کیا جاتا ،اس کے چار سالہ بیٹے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر اسے مجبور کردیا جاتا اسے اور دیگر لڑکیوں کے جسم گرم لوہے کے راڈ سے داغے جاتے پھر ایک دن وہ اس گھر کے قریب ایک میڈیا پرسن کے گھر پناہ لینے میں کامیاب ہوگئی ۔

گروہ کے ارکان لڑکیوں کو لیکر روپوش ہوگئے ۔خاتو نے بتایا کہ یہ گروہ بہت بااثر افراد پر مشتمل ہے اور زیادہ تر انکے ساتھ رکشہ ڈرائیور ملے ہوئے ہیں ۔سمیعہ کے والد محنت کش مشتاق نے بتایا کہ وہ کرایہ کے مکان میں دیگر فیملی کیساتھ رہتا ہے اور سائیکل پر گلی محلے پھر کر امرود فروخت کرکے گھر پیٹ پالتا ہے اس کی بیٹی پر اتنا ظلم کیا گیا جو بیان نہیں کرسکتا اس گروہ کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے ۔

محنت کش مشتاق کی اہلیہ صفیہ بی بی نے روتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ،نگران وزیر اعظم اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ انہیں انصاف دیا جائے جو گروہ لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کرکے فروخت کا دھندہ کررہا ہے اس کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…