منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھی ہم سے تنگ آگئی ہے کوئی قرض یا امداد دینے کو تیار نہیں،مفتاح اسماعیل

datetime 31  اگست‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ دنیا بھی ہم سے تنگ آگئی ہے کوئی قرض یا امداد دینے کو تیار نہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پارٹی بناکرخودکوہی نوازنا ہے تو ایسے 100 سے زائد پارٹیاں ہیں، ملک میں صرف اشرافیہ کی سیاست کی گئی ہے، 20 سال سے ادارے نقصان کررہے ہیں لیکن کسی کی نجکاری نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ ریفارمزیہ نہیں کہ بجلی مہنگی کردیں،ریفارمزیہ ہے کہ بجلی کانظام بہترکریں، حکومت کاکام بچوں کوتعلیم دینا ہے یہ نہیں کہ مہنگی بجلی فروخت کرے۔کرپشن کے حوالے سے سابق وزیر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ملک میں کرپشن کی بات کرتے تھے جو بالکل ٹھیک ہے، کرپشن بالکل نہیں ہونی چاہئے لیکن اداروں کی نجکاری کرکے مقابلہ کرانا چاہئے، اداروں کی نجکاری کریں گے تومقابلے کی صورتحال پیداہوگی۔انہوں نے کہاکہ عدالتیں مفلوج اور نظام بھی نہیں چل رہا تو نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے ، ری امیجنگ پاکستان کی بات کرنی چاہیے، سوچنا چاہیے ریاست کو کیسے چلایا جائے،اصلاحات کے بغیر راستہ نہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مہنگائی، معیشت پرکوئی بات نہیں کرتا،عوامی مسائل پرکوئی توجہ نہیں، ریاست ناکام نہیں ہوئی لیکن گورننس ضرورناکام ہوئی ہے، 20،25سال میں دیکھ لیں کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہوا، سب کومل کر بیٹھنا چاہیے اور فیصلہ کرنا چاہیے ملک کو کی سے چلانا ہے۔سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ جب سے این ایف سی آیا ہے، وفاق کا خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، صوبے کو خرچے کے پیسے ملتے ہیں لیکن صوبہ ٹیکس جمع نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھی ہم سے تنگ آگئی ہے کوئی قرض یا امداد دینے کو تیار نہیں، چھوٹے ریلیف دینے کی بڑی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے، لوگ حکومت میں آجاتے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کرنا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…