منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین پی ٹی آئی کو گھر کو کھانا اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کی اجازت دی جائے،بشریٰ بی بی کا سیکرٹری داخلہ کو خط

datetime 18  اگست‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کربی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی،پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔تفصیلا ت کے مطابق ہوم سیکرٹری پنجاب کو لکھے گئے خط میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 4مطالبات کئے ہیں۔خط میں پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ نے لکھاکہ عدالت نے میرے شوہر کو اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقلی کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بغیر کسی جواز کے میرے شوہر کو اٹک جیل میں قید کر رکھا ہے،قانون کے مطابق میرے شوہر کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے۔

خط میں لکھا گیاکہ میرے شوہر سابق وزیراعظم پاکستان ہیں،وہ آکسفورڈ کے گریجویٹ اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیں۔بشریٰ بی بی نے خط میں تحریر کیاکہ میرے شوہر جن عہدوں پر فائز رہے ہیں، اس حساب سے سہولیات اٹک جیل میں میسر نہیں ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ نے خط میں لکھاکہ اٹک جیل میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں جو میرے شوہر کے عہدے کے مطابق ہوں۔انہوں نے تحریری کیاکہ میرے شوہر پر 2بار قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جن کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔بشریٰ بی بی نے خط میں لکھاکہ میرے شوہر کی جان کو تاحال خطرہ ہے،خدشہ ہے کہ انہیں اٹک جیل میں زہر نہ دے دیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے میرے شوہر کو گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48گھنٹے میں تمام سہولیات دینی تھیں،جو 12 دن بعد بھی نہیں ملیں۔خط میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ نے کہا کہ جیل قوانین کے مطابق میرے شوہر کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرانے کا حق ہے۔انہوں نے خط میں تحریر کیاکہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں، میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…