منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل، وفاقی حکومت کا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا

datetime 17  جولائی  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملٹری کورٹس میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس میں وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کروا دیاجس میں حکومت کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ۔پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملٹری کورٹس میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس میں وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کروا دیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے فْل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔31 صفحات پر مشتمل جواب اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ درخواست گزار ہائی کورٹس سے رجوع کر سکتے ہیں، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ آئینِ پاکستان سے پہلے سے موجود ہیں۔جمع کرائے گئے جواب میں وفاقی حکومت نے کہا کہ ان دونوں ایکٹس کو آج تک چیلنج نہیں کیا گیا، آرمی اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیے گئے اقدامات قانون کے مطابق درست ہیں۔وفاقی حکومت نے اپنے جمع کرائے گئے جواب میں استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ براہِ راست اس کیس کو نہ سنے، فوجی عدالتوں کے خلاف کیس فل کورٹ کو سننا چاہیے۔

عدالتِ عظمیٰ میں جمع کرائے گئے جواب میں وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی بھی فْل کورٹ بنانے کی رائے دے چکے ہیں۔وفاقی حکوت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا، ان واقعات میں منصوبہ بندی سے مسلح افواج کو نشانہ بنایا گیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے معاملے پر صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کی درخواست قابلِ سماعت قرار دے دی۔عدالتِ عظمیٰ کے رجسٹرار نے سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کی درخواست کو نمبر الاٹ کر دیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کا 6 رکنی لارجر بینچ (آج)منگل کو درخواست پر سماعت کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…