منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے عنقریب آنے والے 3اہم ترین فیصلے دن میں تارے دکھا سکتے ہیں

datetime 13  جولائی  2023 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پشاور میں شہباز شریف نے کہا ہے کرپشن اور سفارش سکہ رائج الوقت ہے جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے میرے سہارے پر نہیں رہنا، انہوں نے نام ریاست بچانے کا لیا اور کام اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرانے کے لیے کیے اور عوام کو مہنگائی بیروزگاری کی سولی پر لٹکا دیا، جس دن فرد جرم لگنی تھی اسی دن حلف اٹھایا ،جس اسمبلی کو یہ جعلی کہتے تھے اسی نام نہاد اسمبلی جس کی نہ عزت ہے نہ توقیر ایسے قانون پاس کرائے جن کی آئینی ترمیم کے بغیر کوئی حیثیت اور افادیت نہیں۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ 12 اگست موجودہ حکومت کی ڈیڈ لائن ہے ،سپریم کورٹ کے 3 اہم ترین فیصلے عنقریب آنے والے ہیں جو انہیں دن میں تارے دکھا سکتے ہیں،24 کروڑ عوام بے شعور نہیں باشعور ہو چکے ہیں ،خوابوں کے محل چکنا چور ہوں گے ،عوام میں 13 سیاسی پارٹیوں کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ دور جمہوریت کا بد ترین دور ہے یہ جمہوریت نہیں مجبوریت کا سیاہ دور ہے ،چادر اور چار دیواری آئین اور قانون عدلیہ اور انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے ،

کسی پارٹی کونا اہل کرانے کے لیے ان کی خواہشوںاورخوابوں کے محل سپریم کورٹ کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ،یہ 13 پارٹیوں کا غیر فطری اتحاد ہے جس کا شیرازہ الیکشن سے پہلے بکھر جائے گا ،قرض لینے کا پروگرام ہے قرض واپسی کا ان کے پاس کوئی پروگرام نہیںکیونکہ بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی ادائیگیاں اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سے 6 گنا زیادہ ہو گئی ہیں، یہ نواز شریف کو بھی بلوا لیں تا کہ کوئی حسرت باقی نہ رہے ،جیسے مرضی الیکشن کروا لیں 24 کروڑ عوام کے جذبات کا خون نہیں کیا جا سکتا،پاکستان کی معاشی سیاسی اور اقتصادی صورتحال اللہ اور عوام کی مدد کے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…