منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے عنقریب آنے والے 3اہم ترین فیصلے دن میں تارے دکھا سکتے ہیں

datetime 13  جولائی  2023 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پشاور میں شہباز شریف نے کہا ہے کرپشن اور سفارش سکہ رائج الوقت ہے جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے میرے سہارے پر نہیں رہنا، انہوں نے نام ریاست بچانے کا لیا اور کام اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرانے کے لیے کیے اور عوام کو مہنگائی بیروزگاری کی سولی پر لٹکا دیا، جس دن فرد جرم لگنی تھی اسی دن حلف اٹھایا ،جس اسمبلی کو یہ جعلی کہتے تھے اسی نام نہاد اسمبلی جس کی نہ عزت ہے نہ توقیر ایسے قانون پاس کرائے جن کی آئینی ترمیم کے بغیر کوئی حیثیت اور افادیت نہیں۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ 12 اگست موجودہ حکومت کی ڈیڈ لائن ہے ،سپریم کورٹ کے 3 اہم ترین فیصلے عنقریب آنے والے ہیں جو انہیں دن میں تارے دکھا سکتے ہیں،24 کروڑ عوام بے شعور نہیں باشعور ہو چکے ہیں ،خوابوں کے محل چکنا چور ہوں گے ،عوام میں 13 سیاسی پارٹیوں کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ دور جمہوریت کا بد ترین دور ہے یہ جمہوریت نہیں مجبوریت کا سیاہ دور ہے ،چادر اور چار دیواری آئین اور قانون عدلیہ اور انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے ،

کسی پارٹی کونا اہل کرانے کے لیے ان کی خواہشوںاورخوابوں کے محل سپریم کورٹ کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ،یہ 13 پارٹیوں کا غیر فطری اتحاد ہے جس کا شیرازہ الیکشن سے پہلے بکھر جائے گا ،قرض لینے کا پروگرام ہے قرض واپسی کا ان کے پاس کوئی پروگرام نہیںکیونکہ بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی ادائیگیاں اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سے 6 گنا زیادہ ہو گئی ہیں، یہ نواز شریف کو بھی بلوا لیں تا کہ کوئی حسرت باقی نہ رہے ،جیسے مرضی الیکشن کروا لیں 24 کروڑ عوام کے جذبات کا خون نہیں کیا جا سکتا،پاکستان کی معاشی سیاسی اور اقتصادی صورتحال اللہ اور عوام کی مدد کے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…