ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

کراچی: ڈیفنس کے بنگلے میں سماجی تقریب کے دوران نوجوان لڑکی پر اسرار طور پر ہلاک

datetime 25  جون‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی)پولیس اور ہسپتال حکام کے مطابق ہفتہ کو ڈیفنس ہاسنگ اتھارٹی کے بنگلے میں سماجی تقریب میں ایک نوجوان لڑکی پراسرار طور پر ہلاک ہوگئی۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی)جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ 21 سالہ شادی شدہ لڑکی (عائشہ کاشف)کی ساس کے بیان کے مطابق متوفیہ ڈی ایچ اے فیز 2 میں اپنی سہیلی کے گھر سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گئی تھی اوروہ گلستان جوہر کی رہائشی تھی۔

پولیس کے مطابق بظاہر لڑکی نے نشہ آور دوائیں لیں اور تقریب کے دوران بے ہوش ہو گئی تھی۔بعدازاں اسے صبح سویرے ایک مرد (جبران)اور ایک خاتون (سحرش)ایک کار میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے کر گئے جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے لڑکی کو مردہ قرار دے دیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ 20-25 سالہ خاتون کی لاش، جس کی شناخت عائشہ ولد کاشف کے نام سے ہوئی، صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب جناح ہسپتال لائی گئی تھی۔پولیس سرجن نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میں کسی بھی قسم کے جسمانی تشدد کے شواہد نہیں ملے، انہوں نے مزید کہا کہ ڈی این اے اور سیمین سیرولوجی کے لیے اندام نہانی اور مقعد سے نمونے جمع کرلیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کیمیائی تجزیہ اور ہسٹوپیتھولوجی کے لیے تمام عصبی نمونے جمع کیے گئے تمام عصبی نمونے، کیمیائی تجزیہ اور پوٹاشیم کی سطح کے لیے بھی نمونہے حاصل کرلیے گئے ہیں۔ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ موت کی وجہ نمونوں کی تجزیاتی رپورٹ آنے تک محفوظ ہے۔

ایس ایس پی مسٹر رضا نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں اس واقعے کے پیچھے کسی بھی قسم کی بدسلوکی کے امکان کو رد کیا گیا ہے۔سینئر افسر نے امکان ظاہر کیا کہ لڑکی کی موت نشے کی زیادتی سے ہوئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے لواحقین کا بیان ریکارڈ کر کے واقعے کی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ لڑک کی ساس اور اس کا شوہر دونوں ڈیفنس تھانے پہنچے اور متوفیہ کی لاش کو تدفین کے لیے لے گئے ہیں۔

لڑکی کی شادی ٹیکسی ڈرائیور سے ہوئی تھی اور اس جوڑے کی کوئی اولاد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جس گاڑی میں اسے ہسپتال لے جایا گیا تھا اسے تفتیش کاروں نے برآمد کر لیا ہے لیکن ہسپتال پہنچانے والے دونوں افراد فرار ہو گئے ہیں۔ایس ایس پی ساتھ اسد رضا نے مزید بتایا کہ متوفی کی ساس نے پولیس کو تحریری طور پر بتایا کہ وہ کوئی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتی اور انہوں نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ان کا بیٹا منشیات کا عادی ہے۔ایس ایس پی نے واضح کیا کہ متوفی لڑکی ٹک ٹاکر نہیں تھی بلکہ وہ اپنی ساس کے مطابق گلستان جوہر کے بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…