منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

کشتی ڈوبنے و ہلاکتوں کیس کی تحقیقات میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے

datetime 24  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد ( آن لائن ) لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے پاکستانی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے و ہلاکتوں کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی تحقیقات میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ اسمگلنگ میں ملوث اسمگلرز کے تانے بانے پاکستان سے لیکر لیبیا اور اٹلی میں مقیم نیٹ ورک تک جانکلے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والا سعید عرف سعید سنیارا لیبیا اور اٹلی میں مقیم دو بیٹوں کی ملی بھگت سے انسانی اسمگلنگ کا چھ رکنی نیٹ ورک چلاتا رہا۔ایف آئی اے نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد بیرون ممالک سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کرکے مرکزی ملزم سعید عرف سنیارا و گروہ کے خلاف منی لانڈرنگ کے تحت بھی کارروائی کا آغاز کردیا۔ رپورٹ کے مطابق کشتی حادثے کے ضمن میں ایف آئی اے کی جانب سے اب تک ہونے والی تحقیقات و پیش رفت پر مبنی مفصل رپورٹ کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والا سعیدعرف سعید سنیارا نامی انسانی اسمگلرلیبیا اور اٹلی میں مقیم دو بیٹوں کے ساتھ مل کر چھ رکنی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے میں ملوث ہے۔سعید عرف سعید سنیارا کے چھ رکنی گروہ میں اسکا لیبیا میں مقیم بیٹا حمزہ سنیارا، اٹلی میں مقیم بیٹا بلال سنیارا، اٹلی میں مقیم گجرات سے تعلق رکھنے والا آفاق صفدر، لیبیا میں مقیم گجرات سے تعلق رکھنے والا کاشف سنیارا، لیبیا میں مقیم گجرات سے تعلق رکھنے والا فرحان علی شامل ہے جبکہ انسانی اسمگلنگ گروہ کے گینگ لیڈر سعید عرف سید سنیارا کے خلاف 12 مختلف مقدمات درج ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیا لیبیا کشتی حادثے کیبعد ایف آئی اے گجرات سرکل نے فروری میں لیبیا میں ہونے والے کشتی حادثے جس میں 14 پاکستانی لیبیا سے اٹلی جانے کے دوران بارڈر کراس کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے ان کے لواحقین سے حاصل ہونے والی معلومات اور تحقیقات کے بعد سعید عرف سعید سنیارا کو گرفتار کیا جو اب جوڈیشل کسٹڈی میں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…