منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کا پتا چل گیا

datetime 20  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پنجاب کی گلیوں سے یونان کے سمندروں تک انسانی جان پر کھیل کر پیسا کمانے والے نیٹ ورک کا پتا چلا لیا۔ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ایجنٹس نے سارا راز کھول دیا، لیبیا میں مقیم پاکستانی اپنے 3 بھائیوں کے ساتھ مل کر نیٹ ورک چلاتا ہے۔

ایک بھائی پاکستان میں کلائنٹ پکڑتا ہے، جبکہ دو بھائی لیبیا سے آگے لوگوں کو بھیجنے میں معاونت کرتے ہیں۔گجرات کا ایک جیولر بھی اس گروہ کے ساتھ کام کرتاہے، اس گروہ کے ایجنٹ گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ کوٹلی اور دیگر شہروں میں موجود ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ گروہ انٹرنیشنل گروہ کے ساتھ کام کرتا ہے، گروہ میں پاکستانی، مصری اور لیبیا کے انسانی اسمگلرز شامل ہیں۔یونان کشتی حادثے کے بعد ایف آئی اے کی پھرتیاں لگ گئیں، جس نے گوجرانوالہ ریجن سے 7 اور آزاد کشمیر سے 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے خلاف 7 مقدمات بھی درج کرلیے گئے۔انسانی اسمگلر ممتاز آرائیں وہاڑی سے گرفتار کیا گیا، پولیس نے ملزم سے موبائل ڈیٹا دستاویز اور اہم شواہد ملنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے سپر د کیا جائے گا۔شیخوپورہ کا عابد حسین اور اس کا بیٹا طلحہ شاہزیب بھی ایف آئی اے کی گرفت میں آگئے ہیں، جنہیں عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ایک اور ملزم عابد حسین نے متاثرہ فیملی سے یونان بھجوانے کیلئے 35 لاکھ روپے وصول کیے۔

دوسری طرف یونان کشتی حادثے میں لاپتا ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 125 تک پہنچ گئی، جن میں سے 101 کا تعلق گوجرانوالہ ریجن سے ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق لاپتہ پاکستانیوں میں گجرات کے 47 ، گوجرانوالہ کے 38 سیالکوٹ کے 11 اور منڈی بہائوالدین کے 5 افراد لاپتا ہیں۔

آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کے 21 اور فیصل آباد کے 2 نوجوان بھی کشتی حادثے کے بعد لاپتا ہیں۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے 40 لاپتا نوجوانوں کے خاندانوں کے ڈی این اے سیمپلز لے لیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…