منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نو مئی واقعات ،سیشن ججز ،سپیشل کورٹس کو شناخت پریڈ کا عمل 48 گھٹنوں میں مکمل کرانے کا حکم

datetime 16  جون‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے 9مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت پریڈ میں تاخیر کرنے پر صوبے بھر کے سیشن ججز اور سپیشل کورٹس کو شناخت پریڈ کا عمل 48 گھٹنوں میں مکمل کرانے کا حکم دے دیاجبکہ فاضل عدالت نے قرار دیاہے کہ کسی بھی ملزم کے لیے شناخت پریڈ کا عمل بہت اہم ہوتا ہے

شناخت پریڈ کا موجودہ عمل بہت ناکارہ ہے ،شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر سارے پراسس کو مشکوک بنا دیتی ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری محمد رمضان کی درخواست پر 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار فیصلے کی کاپی تمام سیشن ججز اور آئی جی پنجاب کو بھجوائیں ۔شناخت پریڈ کے پراسس میں تاخیر کی گئی جس سے شہریوں کی آزادی پر قدغن لگائی گئی ۔ہر انسان کو عزت ،آزادی اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے ۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین بھی شہریوں کی آزادی کی بات کرتا ہے ۔گرفتاری ملزم ،اس کے خاندان اور بعض صورتوں میں معاشرے کے لئے بھی دور رست اثرات رکھتی ہے۔لوگ سزا سے پہلے گرفتار اور سزا کے بعد گرفتار میں فرق نہیں کر پاتے ۔کسی شخص کی گرفتاری ٹھوس شواہد اور صرف اسی صورت ہونی جب دوسرا کوئی راستہ نہ ہو ۔بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی ٹرائل سے پہلے گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔کسی گرفتار ملزم کا بے گناہ ڈیکلئیر ہونا ٹرائل سے پہلے گرفتاری کا درد ناک پہلو ہے ۔بے گناہ شخص کے لئے ٹرائل سے پہلے گرفتاری کسی ٹراما کا تضحیک سے کم نہیں ہے ۔کسی بھی ملزم کے لیے شناخت پریڈ کا عمل بہت اہم ہوتا ہے ۔شناخت پریڈ کا موجودہ عمل بہت ناکارہ ہے ۔شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر سارے پراسس کو مشکوک بناتی ہے ۔شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر بنیادی حقوق تکریم اور فئیر ٹرائل کی خلاف ورزی ہے ۔

آئینی عدالتیں آئین کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں ۔آئینی عدالتوں کو انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار 25 مئی سے شناخت پریڈ کے لئے جیل میں ہے ۔شناخت پریڈ میں تاخیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9مئی کو کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی سرکاری اور پرائیوٹ املاک کو نقصان پہنچایا ِ۔حالات پر قابو پانے کے لئے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے ۔نظر بندی کے احکامات معطل ہونے پر افراد کو مقدمات میں نامزد کر کے گرفتاریاں کیں گئیں ۔گرفتاری کے بعد ملزمان کو شناخت پریڈ کے لئے عدالت پیش کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…