منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سمندری طوفان بپر جوائے کی آمد، سندھ کی ساحلی پٹی بری طرح متاثر

datetime 15  جون‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) سمندری طوفان بپر جوائے کی آمد سے سندھ کی ساحلی پٹی بری طرح متاثر ہے، لہریں آبادی میں داخل ہوچکی ہے تاہم کیٹی بندر، سجاول، بدین میں تیزبارش کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق کیٹگری تھری کے سمندری طوفان بپرجوائے کی شدت بڑھنے لگی ہے اور کیٹی بندر سے فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔

سندھ کی ساحلی پٹی پر خوف کے سائے منڈلارہے ہیں اور سمندر بپھر گیا، کیٹی بندر کے ساحل پر تیس فٹ تک لہریں بلند ہورہی ہیں جبکہ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔سمندر میں شدید طغیانی کے باعث پانی ماہی گیروں کی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے اور کھاروچھان اور شاہ بندر کے دیہات زیرآب آگئے۔ساحلی علاقہ ویران ہے، تیز لہروں کا شور سنائی دے رہا ہے، سجاول کی ساحلی پٹی بھی بری طرح متاثر ہوئی، جہاں کئی دیہاتوں میں پانی داخل ہوگیا تاہم آبادی کو خالی کرالیا گیا۔بدین میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش جاری ہے، ساحلی علاقے زیروپونٹ پر لہریں منہ زور ہوچکی ہیں تاہم آبادی کو ریسکیو کیا جاچکا ہے۔

آندھی اور طوفانی بارشیں شروع ہوچکی ہیں میرپور خاص میں گرد آلود ہوائیں چلنے سے کئی درخت گرگئے۔ بجلی تاریں ٹوٹ گئی۔۔ بیشترعلاقوں کوبجلی کی فراہمی معطل ہیسمندری طوفان بپر جوئے کی آمد سے سندھ کی ساحلی پٹی بری طرح متاثر ہے، لہریں آبادی میں داخل ہوچکی ہے۔تھرپارکر میں بھی بپر جوئے کے اثرات نمایاں ہے، آندھی اور طوفانی بارشیں شروع ہوچکی ہیں جبکہ میرپور خاص میں گرد آلود ہوائیں چلنیسے کئی درخت گرگئے اور بجلی تاریں ٹوٹ گئی، جس کے باعث بیشترعلاقوں کوبجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔کیٹی بندر، سجاول، بدین میں تیزبارش کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے اور ایک سو اسی کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…