منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سمندری طوفان؛ ساحل کے قریبی دیہات خالی، ہزاروں افراد کا انخلا جاری

datetime 12  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سمندری طوفان بائپر جوائے کے کیٹی بندر سے ٹکرانے کے امکانات کے پیش نظر ساحل کے قریبی دیہات خالی کروانے کا سلسلہ اور ہزاروں افراد کا انخلا جاری ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سمندری طوفان کے پیش نظر سجاول کی ساحلی پٹی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیربلدیات ناصر شاہ، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وزیراعلی نے سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کی ساحلی پٹی کا فضائی معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان بائپر جوائے 13 سے 17 جون کے درمیان ساحلی پٹی کے شہروں اور قصبوں سے ٹکرانے کا خدشہ ہے جس کے باعث ٹھٹھہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ، تھرپارکر اور کراچی ، میں شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔پاکستان میٹ آفس کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیرہ عرب میں انتہائی شدید سمندری طوفان بائپر جوائے مزید شدت اختیار کر کے ایک سائیکلون میں تبدیل ہو گیا ہے، جو گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ تیز رفتار ہوائیں ڈھیلے اور کمزور ڈھانچے (کچے گھروں)کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کو خطرات ہیں، اس لیے انہوں نے کمشنر حیدرآباد کو بھیجا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو لوگوں کو نکالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر کراچی کو بل بورڈز کو محفوظ بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

بعد ازاں کمشنر حیدر آباد نے سمندری طوفان سے متعلق وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سمندری طوفان 15 جون کو ٹکرائے گا اور جون 17 تا 18 طوفان کا اثر کم ہو جائے گا۔ طوفان کے ٹکرانے سے سمندر میں 4 تا 5 میٹر طغیانی ہوگی اور پانی بہت آگے آجائے گا ۔ بدین کے زیرو پوائنٹ کے گاں سے لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے ۔ شاہ بندر، جاتی اور کیٹی بندر کے سمندر کے نزدیک دیہات سے 50 ہزار لوگوں کا انخلا ہو گا ۔ شاہ بندر کے جزیروں سے رات 2 ہزار افراد کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…