اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

جس کا بھی دبائو تھا کم از کم جعلی کیس پر نیب اب معافی مانگ لے، شاہد خاقان عباسی

datetime 30  مئی‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس کا بھی دبائو تھا کم از کم جعلی کیس پر نیب اب معافی مانگ لے۔منگل کوکراچی میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کیس احتساب عدالت میں نہ چلانے کی درخواست پر فیصلہ آیا ہے، اس حوالے سے میں نے درخواست دائر نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ میں تو کہتا رہا کہ کیس چلائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے، یہاں جو 2 گواہ آئے انہوں نے ہمارے خلاف کوئی بات نہیں کی، نئے چیئرمین نیب کیا اب افسران سے سوال کریں گے کہ جھوٹے کیس کیوں بنائے؟۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ 3 سال سے ادارے کا اور ہمارا وقت ضائع کیا گیا، عوام سمجھ رہی تھی کہ پتہ نہیں کتنا بڑا کیس ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ہم نے کون سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہماری زندگی مفلوج بنائی گئی، بدنامی الگ ہوئی اور مالی نقصان بھی ہوا، عمران کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی کیس نہیں بنایا، چیئرمین نیب کی ذمے داری ہے کہ جھوٹے کیسز بنانے پر تحقیقات کریں۔انہوں نے کہاکہ آج بھی کہتا ہو کیمروں کے سامنے کیس چلایا جائے، عمران خان کی طرح بھاگنے والوں میں سے نہیں، سیاسی لیڈر سینہ تان کر مقابلہ کرتا ہے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب پاکستان کو نقصان پہنچانے والا ادارہ ہے، افسران اور کابینہ نیب کے ڈر کی وجہ سے فیصلے نہیں کرتے، ارباب اختیار اب اس معاملے کو سمجھیں، جب تک نیب کا ادارہ ہے ملک نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے بنایا گیا ادارہ اب ختم کر دینا چاہیے، نیب کی کارکردگی اب سامنے لانی چاہیے، اب فیصلہ ہو گا کہ کونسی عدالت میں یہ کیس چلے گا۔

سیاسی لوگوں پر جو کیس ہیں ان کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہیے۔سابق وزیراعظ نے کہاکہ کوئی کسی جماعت کو ختم نہیں کر سکتا، جس ملک میں جمہوریت نہیں ہو گی الیکشن چوری ہوں گے تو پھر بوجھ پڑے گا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…